ہمیں کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے: سید عاصم منیر

بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں چھپے خزانوں کو دریافت کرنے کی دعوت دیتے ہیں: چیف آف آرمی اسٹاف کا پاکستان منرل سمٹ سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ یہ ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم مل کر ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ ہماری سرزمین بہت سی معدنیات سے مزین ہے اور اس صلاحیت کو مکمل طریقے سے استعمال میں لانے کے لیے ہم نے بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ پاکستان میں چھپے خزانوں کی دریافت میں اپنا کردار ادا کریں۔

’’پاکستان کا پہلا منرل سمٹ پاکستان میں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں آسان کاروبار کے نئے اصول وضع کرتا ہے۔ ہم ایسے سرمایہ کار دوست نظام کو یقینی بنائیں گے جس میں آسان شرائط اور غیر ضروری التوا سے بچا سکے۔ ہمارے ملک میں موجود کان کنی کے وسیع تر مواقع ہیں جو کہ مشترکہ کاوشوں سے عمل پذیر لائے جائیں گے۔‘‘

ان خیالات کا اظہار آرمی چیف سید عاصم منیر نے پاکستان منرل سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے تمام اداروں کے ساتھ مل کر ا سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل(ایس آئی ایف سی)کے قیام کو یقینی بنایا ،حال ہی میں قائم کی گئی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کا قیام تمام شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے۔ ذرا اپنے ملک پر نظر تو ڈالیں، برف پوش پہاڑوں سے لے کر صحرائوں کی وسعت تک، ساحلی پٹی سے میدانی علاقوں تک۔ اس سر زمین میں کیا کچھ نہیں ہے ۔

جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ امن اور خوشحالی کے راستے پہ گامزن رہنا ہی استقامت ہے، معدنیاتی پروجیکٹس عوام کی ترقی کا زینہ ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ سورہ رحمان میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارا یہ مشترکہ عزم رہا تو پھر آسمان کی بلندیاں ہماری حد اور اس کی وسعتیں ہماری منتظر ہیں۔

آرمی چیف نے قرانی حوالہ دے کر واضح کیا کہ: اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ آرمی چیف نے بیرک گولڈ کے سی ای او اور پریذیڈنٹ مارک برسٹو اور سعودی مائننگ منسٹر انجینئر خالد بن صالح المدیفر اور دیگر سرمایہ کاروں کا شکریہ ادا کیا۔

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے امید کے دامن کو تھامے رکھنے اور اللہ رب العزت پر یقین و ایمان رکھنے پر زور دیا اور قران کریم کے سورہِ بقرہ کی آیت کی تلاوت کی جس کا ترجمہ ہے : اور ہم ضرور تمہیں خوف اور بھوک اور جان و مال و ثمرات سے آزمائیں گے ۔ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں ؛ بے شک ہم اللہ کی طرف سے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں