افغان شہری سرحدپار سے خودکش بمباروں کی مدد کر رہے ہیں: وزیر اعظم شہبازشریف

پاکستان مخالف عناصر کو سرحد پار پناہ گاہوں سے بے گناہ شہریوں پر بزدلانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور اسے انجام دینے کی آزادی حاصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے خودکش بم حملوں میں ملوّث جنگجوؤں کو کو سرحد پار سے ’’افغان شہری‘‘ مدد دے رہے ہیں۔

شہبازشریف نے افغانستان کی طالبان حکومت پر جان بوجھ کر اپنی سرزمین سے حملوں کی اجازت دینے کا براہ راست الزام لگانے سے گریز کیا لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا کہ پاکستانی جنگجو پڑوسی ملک میں 'پناہ گاہوں' سے کام کر رہے ہیں۔

اسلام آباد نے اس سے قبل کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) سے وابستہ جنگجو افغانستان سے آزادانہ طور پردہشت گردی کے حملوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کا یہ بیان منگل کو دیر گئے سکیورٹی بریفنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔اتوار کو سرحدی ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں حکومت کی اتحادی جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں کے ایک اجتماع میں بم دھماکے میں 54 افراد جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔وزیراعظم نے اسپتال میں بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری داعش گروپ کی پاکستان شاخ نے قبول کی تھی۔اس کی افغان طالبان کے ساتھ خونیں دشمنی ہے۔وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے خودکش بم دھماکوں میں افغان شہریوں کے ملوّث ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مخالف عناصر کو سرحد پار پناہ گاہوں سے بے گناہ شہریوں پر اس طرح کے بزدلانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کوانجام دینے کی آزادی حاصل ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ ’’عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرے‘‘،
دو سال قبل افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان نے اپنے مغربی سرحدی علاقوں میں سخت گیرجنگجوؤں کے حملوں میں ڈرامائی اضافہ دیکھا ہے۔

طالبان حکام مسلسل اس عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کو حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بدھ کو ایف پی کو بتایا کہ خار حملہ ایک "مجرمانہ فعل" تھا۔اس طرح کے واقعات کو وہیں روکا جانا چاہیے جہاں یہ رونما ہو رہے ہیں اور ان کو مربوط کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’امارت اسلامیہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے بہت سنجیدہ ہے اور ہم کسی کو بھی یہاں پناہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔

مئی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کے طالبان پاکستانی طالبان کو داخلی خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ امارات کا حصہ سمجھتے ہیں۔

جنوری میں تفتیش کاروں نے پشاور میں ایک مسجد میں بم دھماکے کا ذمہ دار پاکستانی طالبان کے ایک گروہ کو قرار دیا تھا۔دہشت گردی کے اس واقعے میں 80 سے زیادہ پولیس اہلکارجاں بحق ہو گئے تھے۔

داعش خراسان نے اس خودکش بمبار کا نام تو ظاہر نہیں کیا جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے اتوار کو جے یوآئی کے کارکنوں کے کنونشن میں بم دھماکا کیا تھا۔پولیس نے ابھی تک حملہ آور کی تفصیل کی تصدیق نہیں کی ہے۔تاہم تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ داعش نے گذشتہ سال ملک کے شمال مغربی علاقے میں اہل تشیع کی ایک مسجد پر بم حملہ کیا تھا جس میں 64 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں