توشہ خانہ ٹرائل، سپریم کورٹ میں عمران خان کی فوری ریلیف کی استدعا مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی عمران خان کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

بدھ کو تحریک انصاف کے چیئرمین کو توشہ خانہ کیس فوری ریلیف نہ دیتے ہوئے عدالت نے الیکشن کمیشن کے حکام سے چار اگست تک جواب طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کے ٹرائل کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ نے توشہ خانہ کیش کی سماعت کی جس میں جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

جسٹس یحیی آفریدی نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو ریلیف آپ نے مانگا، وہ ہم نے دے دیا تھا۔ حیرت ہے آپ نے پھر بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

انھوں نے استفسار کیا کہ ’ہائی کورٹ میں کیس اب کب کے لیے مقرر ہے؟‘ جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ’کیس کل ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہے، اصل سوال دائرہ اختیار کا ہے۔‘

جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی درخواست غیر مؤثر ہو چکی تھی، پھر بھی ہم نے سنا اور آرڈر دیا۔

’ہم صورتحال کو سمجھ رہے ہیں، ہم نے سمجھا تھا ہائی کورٹ آپ کو بہتر آرڈر دے گی۔ ہم نے حکمنامے میں لکھا تھا ہائی کورٹ درخواستوں کو اکھٹا سنے۔ ہو سکتا ہے جو ریلیف آپ مانگ رہے ہیں، وہ ہائی کورٹ فیصلہ کر دے، پہلے ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں۔‘

خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ ’ہائی کورٹ نے حکم امتناع نہیں دیا اس لیے سپریم کورٹ آئے ہیں۔‘

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ’ہم اس وقت ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں، عدالت اگر آپ کو ریلیف نہیں ملتا تو سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔

’ہم نے حکمنامے میں لکھا تھا ہائی کورٹ درخواستوں کو اکٹھا سنے۔ سپریم کورٹ سے حکم لینے کی بجائے ہائی کورٹ کے حکم انتظار کرنا بہتر ہو گا۔‘

کیس کی سماعت جمعے ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ الیکشن کمیشن حکام کو چار اگست کو طلب کیا گیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں