پاکستانی وزیر اعظم کی ترکیہ کو سی پیک کے مشترکہ منصوے میں شمولیت کی دعوت

وزیراعظم کا جنگی بحری جہاز پی این ایس طارق کو پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل کرنے کی تقریب سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا، اس کی کئی جہتیں ہیں، جس سے پاکستان اور چین کے تجارتی حجم میں اضافہ ہو گا، دعوت دیتا ہوں کہ ترکیہ بھی مشترکہ منصوبہ میں شامل ہو۔ پاکستان اور ترکیہ کے باہمی اشتراک سے تیار ہونے والا ملجم کلاس جنگی بحری جہاز پی این ایس طارق پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل ہو گیا۔

اس موقع پر کراچی شپ یارڈ میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز شریک تھے، ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز تقریب کے اعزازی مہمان تھے۔

تقریب میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر، گورنر سندھ کامران ٹیسوری ،وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل امجد نیازی سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام بھی شریک تھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے نائب صدر کے ہمراہ پی این ایس طارق کی لانچنگ کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس جہاز کی لانچنگ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات میں اضافے کی ایک مثال ہے، پاکستان اور ترکیہ کی دوستی اور بھائی چارے کا تعلق مثالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن عظیم رہنما ہیں جو غیر معمولی طور پر اپنی قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے اعلی سطح کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور ہم نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا، اس کی کئی جہتیں ہیں، اس میں گرین کوریڈور، بزنس کوریڈور، سپیشل کوریڈورز اور انفارمیشن کوریڈورز سمیت دیگر مختلف شعبوں کے حوالے سے معاہدے شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس معاہدے سے پاکستان اور چین کے تجارتی حجم میں اضافہ ہو گا، میں اپنے برادر ملک ترکیہ کو دعوت دوں گا کہ وہ اس مشترکہ منصوبے میں شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں ہمیں جن معاشی چیلنجز کا سامنا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان معاشی مشکلات کے باوجود اس جدید جہاز کی تیاری میں شامل ٹیم کی کاوشیں تسلیم کرتے ہوئے اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے میں 20 کروڑ روپے کا تحفہ لایا ہوں، اس کی تقسیم نیول چیف حصہ بقدر جثہ کے حساب سے کریں گے۔

قبل ازیں ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاز کی تیاری میں شامل ٹیم کو مبارک باد دی اور کہا کہ اپنی تقریر کا آغاز کرنے سے قبل میں باجوڑ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرنے کے ساتھ لواحقین سے تعزیت اور واقعہ پر اظہار افسوس کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، یہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، سیلاب میں جہاں ترکیہ نے پاکستان کی مدد کی وہیں زلزلے کے دوران پاکستان کا تعاون مثالی تھا۔ترک نائب صدر نے کہا کہ خطے میں پاکستان کو خاص اسٹریٹجک حیثیت حاصل ہے، پاکستان اور ترکیہ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان کو دہشت گردی کا بھی سامنا ہے جس سے ملک کے عوام کو ہونے والی تکلیف کا ہمیں احساس اور اندازہ ہے، ہمیں اس دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز گزشتہ رات پاکستان کے دورے پر کراچی پہنچے تھے، پاک بحریہ کے لیے 4 کارویٹس کی تعمیر کے لیے ملجم پروجیکٹ 2018 میں شروع کیا گیا تھا، ان میں سے 2 پاکستان میں اور 2 ترکیہ میں تیار کیے گئے۔ ے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی 2022 میں کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں پاک بحریہ کے تیسرے ملجم کلاس کارویٹ بحری جہاز پی این ایس بدر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تھا کہ بحری جہاز ترکیہ کے ایم ایس اسفات کے تعاون سے کراچی شپ یارڈ میں تیار کیا گیا۔

ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ تعاون پر مبنی ملجم پروجیکٹ پر 2018 میں ترکیہ کی سرکاری دفاعی کنٹریکٹر فرم (ASFAT inc) کے ساتھ دستخط کیے گئے تھے جس کے مطابق پاکستان نیوی، ترکیہ سے ملجم کلاس کے چار جہاز حاصل کرے گی۔ ملجم کے جہاز 99 میٹر لمبے ہیں، ان کی نقل مکانی کی صلاحیت 2400 ٹن ہے اور ان کی رفتار 29 ناٹیکل میل ہے، یہ اینٹی سب میرین جنگی فریگیٹس ہیں جنہیں ریڈار سے چھپایا جا سکتا ہے اور اس سے پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاک بحریہ کے لیے پہلے کارویٹ پی این ایس بابر کی لانچنگ تقریب اگست 2021 میں استنبول میں کی گئی تھی جبکہ دوسرے جہاز پی این ایس بدر کا سنگ بنیاد مئی 2022 میں کراچی میں رکھا گیا تھا۔ بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ پاک ۔ ترک اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ شراکت داری مستقل بہتری کی جانب گامزن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں