سپہ سالاروں سے ملنے کا ایک ہی مقصد ملک کی ترقی تھا: وزیراعظم

"دوست اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونے کا طعنہ دیتے ہیں، مجھے فرق نہیں پڑتا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اُن کو یار دوست اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونے کا طعنہ دیتے ہیں مگر اس سے فرق نہیں پڑتا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں بہارہ کہو انٹرچینج کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں بھی آرمی چیف نے کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے گزشتہ روز ملاقات ہوئی تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ وہ بہت سے سپہ سالاروں سے ملے ہیں مگر موجودہ آرمی چیف ہر لحاظ سے مختلف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ذاتی مفاد کے لیے کبھی سپہ سالاروں سے ملاقاتیں نہیں کیں۔ مقصد صرف ایک ہی تھا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مل کر ملک کو آگے لے کر جائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونے کے طعنے اور اس طرح کی تنقید سے اُن کو فرق نہیں پڑتا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ’آج سے دس بارہ ماہ پہلے بارہ کہو انڈرپاس منصوبے کا پلان بنایا گیا تھا، پہلے بارہ کہو کا منصوبہ سی ڈے اے کے حوالے کیا پھر این ایل سی کے حوالے کر دیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بارہ کہو بائی پاس کے منصوبے کے لیے پہلا چیلنج زمین کا حصول تھا، یہ منصوبہ بہت پہلے مکمل ہونا چاہیے تھا کیونکہ ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے بارہ کہو سے گزرنا محال تھا۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں