پاکستانی ڈرامہ مائی ری بچپن کی شادی اور دیگر مسائل پر روشنی ڈالتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

معروف اداکارہ ماریہ واسطی نے بچپن کی شادی کو 'زیادتی کی انتہائی صورت' قرار دیا جبکہ ان کا ڈرامہ سیریل 'مائی ری' ریلیز ہو رہا ہےجس کا مقصد اس مسئلے کو نمایاں کرنا اور اس کے تباہ کن نتائج کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے۔

پاکستان میں یونیسیف کے اعداد وشمار کے مطابق کم عمر دلہنوں کی تعداد 19 ملین ہے اور یہاں یہ عمل طویل عرصے سے جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ہر چھے میں سے ایک نوجوان خاتون کی شادی بچپن میں کر دی گئی ہے۔

عرب نیوز سے حالیہ گفتگو میں ماریہ واسطی نے کہا: "زیادتی کی انتہائی صورت جو ہمارے معاشرے میں موجود ہے، وہ بچپن کی شادی ہے۔ ہم اسے نظرانداز کر دیتے ہیں لیکن ہمیں پتا ہے کہ یہ کسی سے زندہ رہنے کا حق چھین لیتی ہے۔ یہ کسی کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ ہے جو نہایت غیر انسانی ہے۔"

یہ غیر مؤرخہ تصویر کراچی، پاکستان میں فلمائے گئے پاکستانی ڈرامہ سیریل 'مائی ری' کے سیٹ کا ایک منظر دکھاتی ہے۔
یہ غیر مؤرخہ تصویر کراچی، پاکستان میں فلمائے گئے پاکستانی ڈرامہ سیریل 'مائی ری' کے سیٹ کا ایک منظر دکھاتی ہے۔

نئے ڈرامہ سیریل کی کہانی دو بھائیوں - ظہیر اور حبیب - اور ان کے خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ بیماری میں مبتلا ظہیر کی آخری خواہش اپنی بیٹی عینی کو دیکھنے کی ہے اور وہ اس کی اپنے بھتیجے فاخر سے شادی کر دینے پر اصرار کرتا ہے۔ اس کا فیصلہ دونوں خاندانوں کی زندگی میں ڈرامائی تبدیلیاں لانے کا سبب بنتا ہے اور اسی سے ڈرامے کی کہانی بے نقاب ہوتی ہے۔

ماریہ واسطی نے حریمِ ثمینہ کا کردار ادا کیا ہے جو خود بچپن کی شادی کا شکار ہوئی اور اسے حالات کو مجبوراً قبول کرنا پڑا۔ وہ فاخر کی ماں کے طور پر ڈرامے میں نظر آئے گی جسے کم عمری میں اپنے کزن سے مجبوراً شادی کرنا پڑی۔

واسطی نے اس موضوع کی اہمیت پر زور دیا اور ایسے بامقصد موضوعات پر پروڈکشن ہاؤسز اور ٹی وی چینلز کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ماریہ واسطی نے مزید کہا۔ "اس سے کم از کم لوگوں کو اس بات پر غور کرنے کا موقع ملے گا اور ممکن ہے کہ وہ اس (پر عمل کرنے) سے باز آ جائیں۔"

انہوں نے نشان دہی کہ بچپن کی شادی روکنے والے قوانین پاکستان میں موجود ہیں لیکن ان پر ناکافی عمل درآمد پر مایوسی کا اظہار کیا۔

فاخر کا کردار کرنے والے ثمر جعفری نے اس معاشرتی مسئلے پر کام کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا جس نے ملک میں کئی زندگیاں تباہ کر دی ہیں۔

 گذشتہ ماہ کراچی میں پاکستانی ڈراما 'مائی ری' کے سیٹ پر سے آئینہ آصف اور ثمر جعفری کی تصویر (بشکریہ: ثمر جعفری)
گذشتہ ماہ کراچی میں پاکستانی ڈراما 'مائی ری' کے سیٹ پر سے آئینہ آصف اور ثمر جعفری کی تصویر (بشکریہ: ثمر جعفری)

انہوں نے کہا کہ "شادی بہت خوبصورت رشتہ ہے لیکن اگر صحیح عمر میں ہو تو۔ بچپن کی شادی تو بچپن کو ختم کر دیتی ہے۔"

"مائی ری" ڈرامہ سیریل میں جعفری پہلی بار مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔ ماضی میں وہ انور مقصود کے تھیٹر ڈراموں کا حصہ رہ چکے ہیں مثلاً "پونے 14 اگست" اور "سوا 14 اگست"۔ ان کے ساتھ ساتھ مختصر فلموں، ٹیلی فلموں اور 50 سے زیادہ ٹیلی ویژن اشتہارات میں کام کر چکے ہیں۔

وہ ایک موسیقار بھی ہیں جو گانے لکھتے، گاتے اور ان پر پرفارم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ٹیلی ویژن پر ایسے موضوعات کو اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ لوگ اداکاروں سے سیکھتے ہیں۔ اگر یہ ایک اچھا پیغام ہے تو سامعین کو سوچنے کے لیے موقع فراہم کرے گا۔"

بگ بینگ انٹرٹینمنٹ کے بینر تلے تیار ہونے والے اس ڈرامے کے ڈائریکٹر سید میثم نقوی نے کہا کہ "مائی ری" حقیقی زندگی کے واقعات پر مبنی ہے اور اس میں بچپن کی شادی کے علاوہ کئی دیگر موضوعات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "ڈرامہ صرف بچپن کی شادی کے بارے میں نہیں ہے۔ ہم نے ایک بڑے مسئلے کو سادہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ سامعین کو اسے ہضم ہونے میں آسانی ہو۔ یہ کہانی ایک عام گھر کی ہے جہاں لوگوں کو کئی اور مسائل بھی درپیش ہیں۔"

تاہم نقوی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بچپن کی شادیاں شہری علاقوں میں بھی اتنی ہی زیادہ ہیں جتنا کہ دیہی علاقوں میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک بڑا پہلو ہے جسے ڈرامہ اجاگر کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے بات کو جاری رکھا۔ "یہ صرف لڑکی کے بارے میں نہیں بلکہ اس لڑکے کی کہانی بھی ہے جس کی چھوٹی عمر میں شادی ہو جاتی ہے۔ اس کا کیریئر بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ کم عمری کی شادی کئی مسائل کا باعث بنتی ہے جن میں طبی مسائل، نفسیاتی چیلنجز اور تعلیمی مسائل شامل ہیں۔ ہماری توجہ تعلیم پر ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں