پاکستان اور ایران کے درمیان پانچ سالہ تزویراتی تجارت کا معاہدہ

پاک ایران وزراء خارجہ کادوطرفہ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال اور سمجھوتوں پر دست خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان اور ایران کے درمیان پانچ سال کی مدت کے لیے تزویراتی تجارت کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔پاکستان اورایران کے وزرائے خارجہ نے تجارت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدوں پر اسلام آباد میں ایک تقریب میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان نے دست خط کیے ہیں۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر میں بجلی مہیا کرنے کے لیے ایران نے اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ 2023 سے 2028 تک کے لیے باہمی تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دے گئی ہے۔اس سے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھ کر پانچ ارب ڈالر تک ہوجائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے اپنے دورے کی یادگار کے طور پر وزارت خارجہ کےاحاطے میں صنوبر کا پودا لگایا۔

انھوں نے مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا کے حالیہ رجحان کے حوالے سے کہا کہ اس کے خاتمے کے لیے ہم سب کومل کرکام کرنا ہوگا۔ہم ایران کے ساتھ مختلف شعبوں میں مزید تعاون کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ دوطرفہ تجارت، معیشت اور توانائی میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے متعدد تجاویز زیرِغور ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تزویراتی تعلقات ہیں اور ایران سے آنے والی بجلی سے گوادر میں اسپتال اور سکول مستفید ہو رہے ہیں، ہم نے کم و بیش 15 ماہ قبل حکومت سنبھالی تھی۔اس عرصے میں ہماری حکومت نے معیشت کی بہتری کے لیے دن رات کام کیا۔ہمارے آج کے اقدامات اگلے کئی سال تک پاکستانی عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔انھوں نے بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازع کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ ریاست میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے نیوز کانفرنس میں گذشتہ اتوار کو باجوڑ میں جمعیت علماء اسلام کے اجتماع میں خودکش بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ وہ پاکستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ سانحہ باجوڑ میں انسانی جانوں کے ضیاع پرتعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ معیشت، تجارت اور ثقافت میں دوطرفہ تعاون کے فروغ اور روابط بڑھانے پر دونوں ممالک میں کام ہو رہا ہے،ان کی پاکستانی وزیرخارجہ سے گیس پائپ لائن منصوبے پر گفتگو ہوئی ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ ہم دوطرفہ تجارت پر مزید وسعت چاہتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر مارکیٹوں کے قیام سے تجارت میں آسانی پیدا ہو رہی ہے۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ ایران، چین اور پاکستان کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری کا منصوبہ ہونا چاہیے، دونوں ممالک میں پارلیمانی وفود کا تبادلہ اچھا اقدام ہے۔

اس سے قبل پاکستانی وزیرخارجہ نے وزارت خارجہ میں آمد پر اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیرعبداللہیان کا پُرتپاک استقبال کیا۔ انھوں نے وزارتِ خارجہ میں ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مختلف دوطرفہ ،علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان میں اپنے شاندار خیرمقدم پر میزبان ہم منصب کا شکریہ ادا کیا اور اپنے دورے کی یادگار کے طور پر وزارت خارجہ کےاحاطے میں صنوبر کا پودا لگایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں