قومی اسمبلی نو اگست کو تحلیل کر دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تجویز دی ہے کہ پارلیمنٹ اپنی مدت ختم ہونے سے تین دن قبل یعنی نو اگست کو تحلیل کر دی جائے۔ رائٹرز نے سیاسی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم کا مقصد نومبر میں عام انتخابات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ان انتخابات کے انعقاد کی بات ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے، جب مہینوں سے جاری سیاسی اور معاشی انتشار کی وجہ سے انہیں ملتوی کرنے سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔

جمعرات کو وزیر اعظم کی طرف سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کرنے والے پارلیمنٹ کے دو ارکان نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے اپنے اتحادیوں کو یقین دلایا کہ وہ نو اگست کو اسمبلیاں تحلیل کر کے انتخابات کے انعقاد کے لیے اقتدار نگراں حکومت کے حوالے کر دیں گے۔ موجودہ پارلیمنٹ کی پانچ سالہ میعاد بارہ اگست کو ختم ہونے والی ہے۔

ایک رکن پارلیمان کا کہنا تھا،''وزیر اعظم نے کہا کہ وہ انتخابات کے انعقاد کے لیے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی ان کی تجویز اور نگراں حکومت کی تشکیل کے لیے اپنے اتحادیوں سے مشورہ کریں گے۔ ‘‘ وزارت اطلاعات نے رائٹرز اس بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

عشائیے میں وزیراعظم نے اتحادی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں اتحادیوں کو آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ مخلوط حکومت نے 15 ماہ کے دوران ٹیکس کلیکشن میں 13 فیصد اضافہ کیا جب کہ اس دوران 13 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا۔

شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ پاور سیکٹر میں ریکوری 90 فیصد سے زائد رہی، تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گردشی قرضے میں گزشتہ 11 ماہ کے دوران 18 فیصد یعنی 393 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں گزشتہ چار ماہ کے دوران نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی اور گزشتہ مالی سال کے دوران آئی ٹی ایکسپورٹ کا مجموعی حجم دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 23-2022 کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری ایک ارب 45 کروڑ ڈالر رہی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام سے مزید غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جامع پالیسیاں وضع کی گئیں۔

عشائیے میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف، پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی، ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، جے یو آئی (ف) کے رہنما اسعد محمود، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد مگسی اور سینیٹر احمد خان، جمہوری وطن پارٹی کے چیئرمین شاہ زین بگٹی کے علاوہ اسلم بھوتانی، محسن داوڑ اور دیگر نے شرکت کی۔

سیاسی مبصریں کی رائے میں پارلیمنٹ کے اپنی مقررہ مدت سے تین دن قبل تحلیل ہونے سے شہباز شریف اور ان کے اتحادیوں کو معزول سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے ساتھ انتخابی معرکہ کی تیاری کے لیے مزید وقت ملے گا۔

جب حکومت جلد اقتدار سونپتی ہے تو عام انتخابات کرانے کے لیے نگران حکومت کے پاس نوے دن ہوتے ہیں، جب کہ حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کی مدت کے اختتام پر اقتدار سونپنے کی صورت میں انتخابات کے انعقاد کے لیے ساٹھ دن کا وقت دستیاب ہوتا ہے۔

موجود اتحادی حکومت عمران خان کو اپریل 2022 میں عدم اعتماد کے ووٹ میں معزول کر دینے کے بعد بر سر اقتدار آئی تھی۔ تب سے لے کر عمران خان قبل از وقت انتخابات کے لیے مہم چلا رہے ہیں اور اس سلسلے میں کیے گئے مظاہروں ہی کے دوران نو مئی کے پر تشدد واقعات کے بعد عمران خان اور فوج میں کشیدگی بڑھی۔

عمران خان نے اپنے اقتدار کے خاتمے کے لیے فوج پر سازش کرنے کا الزام لگایا۔ فوج اس کی تردید کرتی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کو حالیہ ہفتوں میں ایک ایسے سخت کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا ہے، جسے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج کی حمایت حاصل تھی۔ اس دوران ملک معاشی بحران کا بھی شکار ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بورڈ نے ادائیگیوں کے شدید توازن کے بحران اور مرکزی بینک کے ذخائر کی شدید کمی سے نمٹنے کےسلسلے مین پاکستان کے لیے گذشتہ ماہ تین بلین ڈالر کے بیل آؤٹ کی منظوری دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں