مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ؛ ساتویں مردم شماری کی متفقہ منظوری

پاکستان کی موجودہ کل آبادی24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار نفوس،سالانہ شرح نمو 2.55 فی صد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے ساتویں مردم شماری کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔اس کے مطابق پاکستان کی موجودہ کل آبادی24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ملکی آبادی کی سالانہ شرح نمو 2.55 فی صد رہی ہے۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ہفتہ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کے زیرِ صدرات مشترکہ مفادات کونسل کا پچاسواں اجلاس ہوا۔ اس میں مردم شماری کے نتائج کی متفقہ منظوری دی گئی ہے۔چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ، تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے مردم شماری کے نتائج سے مکمل اتفاق کیا۔بلوچستان عوامی پارٹی کے ڈاکٹر خالد مگسی، ایم کیو ایم کے سید امین الحق، جمیعت علماء اسلام (ف) کے مولانا اسعد محمود اور پاکستان پیپلزپارٹی کے قمر زمان کائرہ نے بھی سی سی آئی کے دیگر ارکان کے علاوہ خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل وفاق کی مضبوطی کے لیے ایک اہم آئینی ادارہ ہے،پاکستان میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری بہترین انداز میں مکمل ہوئی اور یہ ایک خوش آیند امر ہے۔صوبائی حکومتوں اور پاکستان ادارہ شماریات نے اس قومی فریضے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

اجلاس کے شرکاء کو وزارتِ منصوبہ بندی اور ادارہ شماریات کے حکام نے مردم شماری کے نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی۔محکمہ شماریات کی جانب سے بتایاگیا کہ صوبہ بلوچستان کی آبادی کی شرح نمو باقی صوبوں سے زیادہ یعنی 3.2 فی صد رہی۔گذشتہ 6 سال میں ملکی آبادی میں ساڑھے تین کروڑ کا اضافہ ہوا جو باعث فکر ہے۔پاکستان کی آبادی میں اضافے کا تناسب ملکی معاشی ترقی سے کہیں زیادہ ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ آبادی میں اضافہ متعدد اقسام کی مشکلات پیدا کرتا ہے۔یہ پاکستان میں آیندہ منتخب حکومت اورمستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے،ہمیں نہ صرف آبادی میں اضافے کو روکنا ہوگا بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھا کر ان چیلنجوں پرقابو پانا ہوگا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 2022 میں مردم شماری کے لیے سنسس ایڈوائزری کمیٹی نے مردم شماری کی مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام اور مشاورتی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بارمدم شماری کی مانیٹرنگ کمیٹی میں تمام متعلقہ فریقوں بشمول صوبائی نمائندگان کی شرکت کو یقینی بنایا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے نادرا نے نہ صرف سوفٹ ویئر بلکہ ایک لاکھ 26 ہزار ٹیبلٹس، نیشنل ٹیلی کام کارپوریشن (این ٹی سی) نے ڈیٹا انفراسٹرکچر، اسٹوریج اینڈ کمپیوٹنگ کی سہولیات جبکہ سپارکو نے بلاکس کی تازہ سیٹلائیٹ ڈیجیٹل تصاویر مہیا کیں۔اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں نے ایک لاکھ 21 ہزار اہلکار، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اعدادو شمار اکٹھا کرنے والے اہلکاروں کو سکیورٹی مہیا کی۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سنسس ایڈوائزری کمیٹی کی سفارش پر ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری کے عمل میں تمام متعلقہ فریقوں کو پہلے دن سے شامل کیا گیا۔لہٰذا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مردم شماری کے دوران میں صوبائی انتظامیہ، سول سوسائٹی اور تعلیمی ماہرین کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا۔نیز مردم شماری کی تمام سرگرمیوں میں صوبائی چیف سیکریٹریوں اور ضلعی انتظامیہ کو شفافیت کے لیے ڈیش بورڈز کے ذریعے پل پل نگرانی کی سہولت فراہم کی گئی۔

بریفنگ کے مطابق ڈیجیٹل خانہ اور مردم شماری 2023 یکم مارچ سے22 مئی 2023 تک جاری رہی۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد کا سروے 8 سے 19جولائی 2023 تک جاری رہا۔ 2023ء کی مردم شماری میں مجموعی طور پر پاکستان کی کل آبادی 24کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار نفوس ریکارڈ کی گئی۔صوبہ خیبرپختونخوا کی آبادی چار کروڑ آٹھ لاکھ 50 ہزار، پنجاب کی آبادی 12 کروڑ76 لاکھ 80 ہزار، سندھ کی آبادی پانچ کروڑ 56 لاکھ 90 ہزار، بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ 48 لاکھ 90 ہزاراور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 23 لاکھ 60 ہزارریکارڈ کی گئی۔

اس لحاظ سے پاکستان کی آبادی میں اضافے کی موجودہ سالانہ شرح نمو 2.55 فی صد ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 2.38 فی صد، پنجاب2.53 فی صد، سندھ2.57 فی صد اور بلوچستان 3.20 فی صد رہی ہے۔اجلاس نے متفقہ طور پر ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری کے ان نتائج کی منظوری دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں