ہزارہ ایکسپرس کو نواب شاہ کے قریب حادثہ،30 مسافرجاں بحق، کم سے کم 70 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صوبہ سندھ کے ضلع نواب شاہ میں سرہری ریلوے اسٹیشن کے قریب ہزارہ ایکسپریس کومہلک حادثہ پیش آیا ہے اور اس کی متعدد بوگیاں پٹڑی سے اترگئیں جس کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔یہ مسافر ٹرین کراچی سے راول پنڈی جا رہی تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ نے ضلع بے نظیرآباد میں واقع پیپلز میڈیکل کالج اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریل حادثے میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ضلع شہید بے نظیر آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق 28 جاں بحق مسافروں کی شناخت ہوگئی ہے اور دو جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ان کی لاشیں پیپلز میڈیکل کالج اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔

اسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ریاض احمد عمرانی نے بتایا ہے کہ ان 30 لاشوں میں سے 21 کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا ہے اور باقی نو اسپتال میں ہیں۔ان میں سے دوکی باقیات ہیں جنھیں سرد خانے میں رکھا گیا ہے اور تاحال ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔شہید بینظیر آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر اسد اللہ ڈاہری نے بتایا کہ حادثے میں 72 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے نواب شاہ کے قریب کراچی سے آنے والی ہزارہ ایکسپریس کے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہارکیا ہے اور ریلوے حکام کواس حادثےکی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے حادثے میں جاں بحق مسافروں کے لیے مغفرت کی دعاکی ۔وزیرِ اعظم نے انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں مہیّا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرریلوے اور ہوا بازی خواجہ سعد رفیق کے مطابق یہ حادثہ اتوار کودوپہر ایک بج کر 18 منٹ پر پیش آیا۔ہزارہ ایکسپریس میں ایک ہزار کے قریب مسافر سفر کر رہے تھے۔

خواجہ سعد رفیق نے لاہور میں میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ ٹرین مناسب رفتار سے سفر کررہی تھی۔ریلوے حکام موقع پر پہنچ گئے ہیں اور سکھر اور نواب شاہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ ایک بڑا حادثہ ہے۔اس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں: پہلا یہ کہ یہ میکانی خرابی تھی، یا خرابی پیدا ہوئی تھی- دوسرا یہ تخریب کاری ہوسکتی ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 کے جوان، پاک فوج اور پاکستان ریلوے کا عملہ اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر پہنچ گیا اور امدادی سرگرمیاں شروع کردیں۔انھوں نے بتایا کہ ٹرین کی ایک بوگی کو ابھی ہٹایا جانا باقی ہے جس کے لیے کرینیں بھیجی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اگلے چند گھنٹوں میں دونوں پٹڑیوں کو صاف کر دیا جائے۔ اَپ اور ڈاؤن ٹریک پرریلوے ٹریفک فی الحال معطل ہے اور جلد ہی ٹرینوں کے نئے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔

ایف جی آئی آر (وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلوے) حادثے کے فوری بعد لاہور سے روانہ ہوگئے تھے اور وہ اس واقعہ کی تحقیقات کریں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مکمل تشخیص کے بعد ہی حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جاسکے گا۔

پاکستان ریلوے سکھر ڈویژنل کمرشل آفیسر (ڈی سی او) محسن سیال کا کہنا ہے کہ حادثے میں نامعلوم تعداد میں بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔انھوں نے کہا:’’کچھ لوگ رپورٹ کر رہے ہیں کہ پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتری ہیں، کچھ کہہ رہے ہیں کہ آٹھ پٹڑی سے اتری ہیں اور کچھ 10 بوگیوں کے پٹڑی سے اترنے کی اطلاع دے رہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل علامہ اقبال ایکسپریس کی دو بوگیاں پڈعیدن ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی تھیں جس کے نتیجے میں متاثرہ ریلوے ٹریک پرٹریفک معطل ہوگئی تھی۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

پاکستان کا ریلوے نظام قدیم اور ازکارِرفتہ ہے۔اس کو اکثرحادثات اور ٹرینوں کے پٹڑیوں سے اترنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ پاکستان ریلوے کا قریباً 7،500 کلومیٹر طویل ٹریک ہے اور اس کے ذریعے ہر سال آٹھ کروڑ سے زیادہ مسافر سفر کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں