رضوانہ تشدد کیس: عدالت کا سول جج کی اہلیہ کی گرفتاری کا حکم

ملزمہ سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت خارج ہونے پر عدالت سے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج فرخ فرید نے سومیہ عاصم کی ضمانت خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا، ضمانت میں توسیع کی درخواست خارج ہوتے ہی سومیہ عاصم کو گرفتار کر لیا گیا۔

جج فرخ فرید کا پراسیکیوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا سچ تلاش کرنے میں ڈر نہیں ہونا چاہیے، شواہد ایمانداری سے جمع کریں اور کوئی دباؤ نہ لیں، معاملے کی تفتیش میرٹ پر ہونی چاہیے۔

عدالت کو مدعی کے وکیل نے بتایا کہ ایک بار نہیں، بچی پر کئی بار تشدد کیا گیا۔ بچی کے کچھ زخم بھر گئے، کچھ بھر رہے ہیں۔ مدعی کے وکیل کے مطابق کم سن بچی رضوانہ کی عمر 13 سے 14 سال ہے۔ قانون کے مطابق کم سن بچی کو ملازمہ رکھان ہی ایک جرم ہے۔

مدعی کے وکیل نے بتایا کہ سول جج اور ان کی اہلیہ کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کم سن ملازمہ رکھنا جرم ہے۔ مدعی کے وکیل کے مطابق الزام لگایا گیا کہ بچی کے والدین نے بلیک میل کیا، جج اور اُن کی اہلیہ کیوں بلیک میل ہوئے؟

وکیل نے عدالت میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بچی کے والدین سے رابطہ کر کے رقم کی آفر کی گئی۔ مدعی کے وکیل نے کہا کہ بچی کی طبی رپورٹ کو تو آج تک ملزمہ سومیہ عاصم کے وکلا نے چیلنج نہیں کیا۔

وکیل نے سوال کیا کہ اتنے زیادہ زخم ہیں، کیا کوئی والدین اپنی بیٹی کو اتنا زخمی کر سکتے؟ باہر کا کوئی شخص اتنا تشدد کر سکتا ہے لیکن کبھی کوئی ماں باپ اپنی بیٹی پر اس قدر تشدد نہیں کر سکتے۔

وکیل نے سوال کیا کہ کس بنیاد پر ملزمہ اپنی ضمانت میں توسیع مانگ رہی ہے؟ کیا عورت کوئی بھی جرم کرے تو اس کو ضمانت دے دی جائے؟ اگر عورت کو ایسے ہی ضمانتیں ملتی رہیں تو معاشرہ ختم ہو جائے گا۔ جج فرخ فرید نے کہا کہ مرحوم پرویز مشرف کے دور میں ایسا ہی ایک کیس ہوا تھا۔

وکیل صفائی نے کہا کہ سومیہ عاصم کے خلاف ڈرامہ دراصل سرگودھا میں تیار کیا گیا، تفتیشی افسر کو آخر ملزمہ کی گرفتاری کیوں درکار ہے؟
وکیل صفائی نے پوچھا کہ ملزمہ سے کیا برآمد کرنا ہے جب کچھ ہے ہی نہیں۔

وکیل صفائی نے کہا کہ سومیہ عاصم شاملِ تفتیش ہونے کے لیے ہروقت تیار ہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر کو ڈکٹیٹ نہیں کیا جاسکتا کہ تفتیش کیسے کرنی ہے، عدالت بھی تفتیشی افسر کو کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں