روس اور یوکرین کے درمیان امن کے لیے سعودی کوششیں قابل تحسین ہیں: پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ روس-یوکرین تنازعہ کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے سعودی عرب کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ اس سے ایک دن پہلے سعودی مملکت نے ایک متفقہ حل تلاش کرنے اور دونوں متحارب فریقوں کے درمیان دشمنی کے خاتمے کی کوشش میں کم از کم 40 ممالک کے اعلیٰ حکام کی میزبانی کی۔

سعودی عرب نے ہفتے کے آخر میں بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر جدہ میں دو روزہ اجلاس کی میزبانی کی جس میں امریکہ، چین اور بھارت سمیت 40 ممالک کے حکام شریک تھے۔ یوکرین اور اس کے اتحادیوں کو امید ہے کہ بات چیت ایک سال سے جاری تنازعہ کے پرامن خاتمے کے لیے اہم اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کا باعث بنے گی۔

اطلاعات کے مطابق یوکرین نے اجلاس کے دوران اپنا وسیع پیمانے پر متوقع 10 نکاتی امن فارمولہ تجویز کیا۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ’’پاکستان ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو روس اور یوکرین کے درمیان امن اور مذاکرات کے لیے مرکوز ہیں اور اس سلسلے میں ہم تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جن میں سعودی عرب کی جانب سے متفقہ حل تلاش کرنے میں مدد کی کوشش بھی شامل ہے۔‘‘

مسز بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ان متحارب فریقین کے درمیان امن کا مطالبہ کیا ہے اور اس تنازعہ کا مذاکراتی اور پرامن حل تلاش کرنے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ یوکرین اور روس کے درمیان امن خطے اور اس سے باہر کے استحکام اور امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور توانائی اور خوراک کی افراطِ زر کے لیے (بھی اہم ہے) جس کا ہم سب کو سامنا ہے۔"

پاکستان نے گذشتہ سال فروری میں یوکرین پر حملے کے بعد سے اگرچہ روس کی مذمت نہیں کی ہے تاہم اس نے جنگ پر تشویش کا اظہار کیا اور چین اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) پر زور دیا تھا کہ وہ اس بحران کو حل کرنے کے لیے ثالثی کریں۔

گذشتہ ماہ جنوبی ایشیائی ملک نے یوکرین کے وزیرِ خارجہ دیمیٹرو کولیبا کی دو دن تک میزبانی کی اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے طریقوں اور ذرائع پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

پاکستان نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ - اور اس کے نتیجے میں سپلائی چین میں پیدا شدہ خلل - کی وجہ سے دنیا بھر میں ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد نے کیف اور ماسکو کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوشش میں فعال طور پر شامل کیا ہے کہ روس بحیرۂ اسود کے اناج کے اقدام کو بحال کرے- جو کہ روس اور یوکرین کے درمیان اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی سے ہونے والی ایک ڈیل ہے- جس نے ترقی پذیر ممالک کو یوکرینی غذائی اجناس کی محفوظ برآمد کو یقینی بنایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں