عمران خان کو جیل میں اے کلاس مہیا کی جائے، وکلا ء کی استدعا

عدالت عظمٰی میں یہ درخواست صائمہ صفدر چوہدری نامی ایک شہری کی جانب سے دائر کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سابق معزول وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء نے سپریم کورٹ سے توشہ خانہ کیس میں سنائی گئی سزا کالعدم قرار دینے اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے جیل میں عمران خان کو اے کلاس مہیا کرنے کی استدعا کی ہے۔

عمران خان کے وکلاء نے پیر سات اگست کو کرپشن کے الزام میں ان کی تین سال کی سزا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں عمران خان پانچ سال کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بھی نااہل قرار دیے گئے ہیں۔

پیر کے روز عمران خان کے وکلا نے توشہ خانہ کیس میں اپنے مؤکل کی سزا کی معطلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ عدالت عظمٰی میں یہ درخواست صائمہ صفدر چوہدری نامی ایک شہری کی جانب سے دائر کی گئی۔

اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو شفاف عدالتی کارروائی کا حق مہیا نہیں کیا گیا اور یہ کہ عدالتی کارروائی انتہائی عجلت میں مکمل کر کے سزا سنائی گئی۔

جیل میں خصوصی قیدیوں کو کیا سہولیات ملتی ہیں؟

کسی بھی جرم میں ملوث فرد کا ٹھکانہ آخر جیل ہوتا ہے جہاں کے اپنے قاعدے قانون ہیں، جیل پہنچتے ہی کئی افراد کو خصوصی سہولیات دی جاتی ہیں اور اسے کلاس اے، بی اور سی کہا جاتا ہے، آئیے جانتے ہیں کہ کلاس اے اور بی ملنے کا معیار کیا ہے؟ اور اس میں قیدی کو کیا سہولیات حاصل ہوتی ہیں؟

جیل ایکٹ 1978 کے مطابق پاکستان میں قید یوں کے لیے تین درجے مختص ہیں جنہیں اے، بی اور سی کہا جاتا ہے جبکہ اے اور بی کٹیگری کو خصوصی کلاس بھی کہا جاتا ہے۔

خصوصی کلاس گریڈ سولہ یا اس سے اوپر کے کسی بھی افسر، کمیشنڈ افسر، یا رکن پارلیمنٹ، وزراء، اور وزیراعظم کو دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے عام شہری جو سالانہ 6 لاکھ روپے سے زائد کا ٹیکس دیتے ہوں، وہ بھی خصوصی کلاس حاصل کر سکتے ہیں۔

اے کیٹیگری میں آنے والے قیدی کو ٹی وی، فریج اور واٹر کولر (اے سی) بیڈ کی سہولت میسر ہوتی ہے جبکہ کام کاج کے لیے دو مشقتی بھی دیے جاتے ہیں۔ اے کلاس کا قیدی ہر 15 روز بعد اپنی پسند کا کھانا خود بنا بھی سکتا ہے گھر یا باہر سے بھی منگوا سکتا ہے اور سب سے اہم اے اور بی کلاس کے قیدی اپنی مرضی کے کپڑے بھی پہن سکتے ہیں۔

عمران خان کو اٹک کے تاریخی شہرمیں تقریباﹰ ایک صدی قبل تعمیر کی گئی جیل میں رکھا گیا ہے
عمران خان کو اٹک کے تاریخی شہرمیں تقریباﹰ ایک صدی قبل تعمیر کی گئی جیل میں رکھا گیا ہے

بی کیٹیگری میں موجود قیدی کم سے کم گریجویٹ لیکن ساتھ ہی قید بامشقت کے مجرم بھی ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں خصوصی کلاس کی دیگر سہولیات تو حاصل ہوتی ہیں لیکن مشقتی یا خدمت گار دستیاب نہیں ہوتا۔ اگر خصوصی اجازت مل جائے تو ایک خدمت گزار بی کلاس کے قیدی کو دیا جا سکتا ہے۔

تیسری کیٹیگری یعنی کیٹیگری سی، یہ عام ہوتی ہے جہاں تمام قیدیوں کو ایک ہی جگہ رکھا جاتا ہے۔ انہیں قیدی نمبر دیا جاتا ہے اور ان کے لیے قیدیوں والا لباس پہننا لازم ہے۔ اس گیکٹری میں شامل قیدیوں کے لیے ایک جیسا جیل کی طرف سے دیا جاتا ہے۔

اگر ملزم عادی مجرم ہو، ریاست کے خلاف کسی کارروائی میں ملوث ہو، جاسوس ہو، کسی کالعدم یا دہشت گرد تنظیم کا رکن ہو یا پھر سیریل کلر ہو تو اسے کسی بھی صورت میں خصوصی کلاس نہیں دی جا سکتی۔

توشہ خانہ کیس

عمران خان کو ہفتے کے روز ان کے گھر زمان پارک لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں توشہ خانہ کیس میں لگے الزامات کے تحت جیل منتقل کر دیا گیا۔ عمران خان اس مقدمے کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ انہیں دارالحکومت اسلام آباد سے ساٹھ کلومیٹر مغرب میں اٹک کے تاریخی شہر میں تقریباﹰ ایک صدی قبل تعمیر کی گئی جیل میں رکھا گیا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف کی برطرفی کے بعد سے مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے ان کے خلاف توہین عدالت سے لے کر دہشت گردی اور تشدد پر اکسانے کے الزامات کے تحت 150 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ہفتے کے روز توشہ خانہ کیس میں عمران خان عدالت میں موجود نہیں تھے، جب ٹرائل کورٹ کے ایک جج نے عمران خان کو بطور وزیر اعظم ملنے والے سرکاری تحائف کے سلسلے میں بدعنوانی کا مجرم قرار دیا اور انہیں تین سال قید کی سزا سنائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں