پاکستان میں تفتیش کے لیےاسرائیلی ڈیجیٹل انٹیلی جنس سافٹ ویئر کا’پراناورژن‘زیرِاستعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اسرائیلی ڈیجیٹل انٹیلی جنس کمپنی سیلبریٹ کے سائبر ٹیکنالوجی سافٹ ویئر کا ’پرانا ورژن‘ جرائم، جاسوسی اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی اخبار ہآرتز نے خبر دی تھی کہ ایف آئی اے اور پاکستان میں پولیس کے مختلف یونٹ 2012 سے سیلبریٹ کا تیارکردہ سافٹ ویئر تحقیقات کے عمل میں استعمال کر رہے ہیں۔ سیلبریٹ کی فلیگ شپ پروڈکٹ کو یو ایف ای ڈی کہا جاتا ہے اوراس کے حصص کی نسدق ایکس چینج میں خریدوفروخت ہوتی ہے۔

یہ سافٹ ویئر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پاس ورڈ سے محفوظ سیل فونز کو ہیک اور تصاویر، دستاویزات، ٹیکسٹ پیغامات، فون کال کی تاریخ اور رابطوں سمیت تمام معلومات کی کاپی کرکے ڈیجیٹل فرانزک کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔

عرب نیوز نے ایف آئی اے سائبر کرائم کے دو حاضر سروس افسروں، ادارے کے ایک ریٹائرڈ ڈائریکٹر اور تین سابق پولیس سربراہان سے بات کی۔وہ بالترتیب اسلام آباد، صوبہ سندھ اور عسکریت پسندی سے متاثرہ خیبر پختونخوا (کے پی) میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔انھوں نے تصدیق کی کہ پاکستان سیلبریٹ کے یو ایف ای ڈی سافٹ ویئر کا’’پرانا ورژن‘‘ استعمال کررہا ہے۔ سبھی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ اس معاملے پرمیڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

ایف آئی اے نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا اوردفتر خارجہ نے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔پاکستان اسرائیل کو ایک ملک کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور صہیونی ریاست کے ساتھ اس کے کوئی سفارتی یا تجارتی تعلقات نہیں ہیں۔

ایف آئی اے کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’تحقیقاتی ادارے کے زیراستعمال سیلبریٹ سافٹ ویئر کا پرانا ورژن ہمارے لیے کافی مددگار ہے۔ہم نہیں جانتے کہ ایجنسی نے اسے کیسے اور کب خرید کیا، لیکن اس کا استعمال مختلف جرائم کی تحقیقات کے دوران میں ثبوت جمع کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ملزمان کے موبائل فون سے [سیلبرٹ سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے] حاصل کی گئی کالز، ٹیکسٹ پیغامات، دستاویزات اور تصاویر کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی فرانزک رپورٹس فراہم ہوتی ہیں تاکہ انھیں عدالتوں میں پیش کیا جا سکے‘‘۔

اس افسر نے بتایا کہ سائبر ہیکنگ ٹیکنالوجی تک رسائی ایف آئی اے کے اندر صرف سائبرکرائم اور انسداد دہشت گردی ونگ کے منتخب عہدے داروں تک محدود ہے تاکہ اس کے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔

ایف آئی اے کے ایک دوسرے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایجنسی کے زیراستعمال سیلبریٹ سافٹ ویئر اور ٹوٹے ہوئے موبائل فونز سے بھی ڈیٹا بازیافت کرسکتا ہے۔ تاہم ایف آئی اے کے پاس موجود سافٹ ویئر کا ورژن آئی فونز کو ہیک نہیں کر سکا۔

’’بہت مہنگا‘‘

ایف آئی اے کے سائبرکرائم ونگ کے ایک سابق ڈائریکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’’ ایجنسی سائبرکرائم سمیت مختلف جرائم میں مشتبہ افراد کے موبائل فونز کو ہیک کرنے کے لیے سیلبریٹ کے سافٹ ویئر کے پرانے ورژن کا استعمال کرتی رہی ہے تاکہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے ثبوت کے طور پرڈیٹا حاصل کیا جا سکے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلبریٹ کی مصنوعات کے تازہ ورژن کی قیمت لاکھوں ڈالر میں ہے اور یہ پاکستان کے لیے 'بہت مہنگے' ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پرانے ورژن نے اپنا کام دکھایا ہے کیونکہ یہ آئی فونز اور دیگر ایپل ڈیوائسز کے علاوہ زیادہ تر گیجٹس سے حذف شدہ ڈیٹا سمیت ہر قسم کے ڈیٹا کو بازیافت کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔

ریٹائرڈ افسر نے کہا کہ مشتبہ افراد کے موبائل فونز سے حاصل کردہ ڈیٹا پاکستانی عدالتوں میں ’’مخصوص پیرامیٹرز کے اندر‘‘ ثبوت کے طور پر قابل قبول ہے اور اس طرح مفید ہے۔

انھوں نے بتایا:’’اس سافٹ ویئر کے استعمال کی وجہ سے گذشتہ چند سال میں سائبر کرائمز میں سزاؤں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے ججوں اور پراسیکیوٹرز کو موبائل فونز سے ڈیٹا کی بازیابی، فرانزک رپورٹس اور جرائم کی روک تھام میں ان کی افادیت کے بارے میں بھی تربیت دی ہے‘‘۔

انھوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات نہیں ، لیکن اس نے ترکیہ اور یورپ میں کام کرنے والے تیسرے ممالک میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اسرائیلی مصنوعات خریدکی ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی مارکیٹ سے براہ راست ٹیکنالوجی خریدی، چاہے اس کی اصل کچھ بھی ہو۔

پاکستان میں اسرائیل ساختہ ہیکنگ سافٹ ویئر کے استعمال سے متعلق پوچھے جانے پرانھوں نے کہا، "بین الاقوامی مارکیٹ میں جو کچھ بھی دستیاب ہے، بہترین ممکنہ مصنوعات ہماری ایجنسیاں خریدکرتی ہیں۔ ہمیں یہ چیزیں کسی ایک ملک یا کسی ایک ذریعہ سے نہیں مل رہی ہیں‘‘۔

ایف آئی اے میں خدمات انجام دینے والے ایک سابق پولیس چیف نے سیلبریٹ کی مصنوعات کے استعمال کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ ’’جاسوسی، دہشت گردی کی مالی اعانت اور سائبر دہشت گردی جیسے جرائم میں خاص طور پر مددگار ہیں‘‘۔

ریٹائرڈ پولیس افسر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، خاص طور پر ایف آئی اے، باقاعدگی سے مشتبہ افراد سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور دیگر آلات ضبط کرتے ہیں تاکہ فرانزک ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے اور اسے عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں سے آگے رہنے کے لیے تیار رکھتا ہے۔

رازداری کے لیے خطرہ

دنیا بھر میں شہری آزادیوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سیلبریٹ کی ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ رازداری اور مناسب عمل کے لیے خطرہ ہے۔انھوں نے زیادہ نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں 2016 میں پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) منظور کیا گیا تھا۔اس کے بعد آن لائن غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے متعدد صحافیوں، انسانی حقوق اور سوشل میڈیا کارکنوں پر اس قانون کے تحت فردِجُرم عاید کی جا چکی ہے، ایمنسٹی جیسے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کو ’جعلی خبروں‘ سائبر کرائم، اور غلط معلومات کی روک تھام کے بہانے لوگوں کی پرائیویسی پر حملہ کرنے اور اظہار رائے کی آزادی کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے دفاع کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم ’بولو بھی‘ کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی کا کہنا ہے کہ ’’ فون کی نگرانی اور ڈیٹا کی بازیابی پریس کی آزادی اوراظہار رائے کی آزادی کو محدود کرتی ہے، اور شہریوں کی رازداری کے حق کی خلاف ورزی ہے۔اس لیے میں اسے مکمل طور پر غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ قانون میں شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ان کے موبائل فون کے ڈیٹا کی بازیافت سے روکا جا سکے۔

اسامہ خلجی نے مزید کہا کہ بہت سے مقدمات میں ہم دیکھتے ہیں کہ عدالتیں سائبرکرائم اور دیگر مقدمات میں ملزم کو بے گناہ قرار دے دیتی ہیں لیکن ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پہلے ہی ان کے فون سے ان کا ذاتی ڈیٹا قبضے میں لے لیا ہوتا ہے۔لہٰذا اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں