توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل پراعتراض عائد

ٹرائل کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے،مرکزی اپیل پر فیصلے تک سزا معطل کر کے رہائی کا حکم جاری کیا جائے؛ درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق معزول وزیراعظم عمران خان کے وکلاء نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں ان کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی، تاہم رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل پر اعتراض عائد کر دیا ہے۔

خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں میں استدعا کی گئی ہے کہ توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے، کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرکزی اپیل پر فیصلے تک سزا معطل کر کے چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کا حکم جاری کیا جائے۔

دوسری جانب رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل پر اعتراض عائد کردیا ہے۔ اعتراض ہائی کورٹ ڈائری برانچ نے عائد کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں اپیل کے ساتھ سزا معطلی دائر کرنے کا تصور نہیں۔

واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے پانچ اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے میں پی ٹی آئی چیئرمین کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سناتے ہوئے بدعنوانی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔جرمانے کی عدم ادائیگی پر چیئرمین پی ٹی آئی کو مزید چھ ماہ کی قید بھگتنی ہو گی۔

فیصلے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اسی شام زمان پارک لاہور والی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے بذریعہ موٹر وے اسلام آباد لایا گیا تھا جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں