دوران ڈیوٹی فوت ہونے والے صحافیوں کے لئے خصوصی فنڈ کے قیام کا اعلان

کوئی صحافی فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تواس کے لواحقین کو وزیر اعظم فنڈ سے 40لاکھ روپے ادائیگی ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران زندگی کی بازی ہارنے والے صحافیوں کے لئے خصوصی فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایسے کسی حادثے میں جاں بحق ہونے والے صحافی کے لواحقین کو 40 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے جبکہ وزیر اعظم نے صحافیوں کے لئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہیلتھ کارڈ کابھی اجرا کر دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو صحافیوں، فنکاروں کے لئے ہیلتھ انشورنس کارڈ، پاکستان کوڈ، ڈیجیٹل ریپازٹری آف فیڈرل لازموبائل ایپ اور ویب سائٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے بھی خطاب کیا جبکہ وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات سہیل علی خان، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی قیادت بھی موجود تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امراض زندگی کا حصہ ہیں۔ ہیلتھ کارڈ کے اجرا پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس کے لئے مریم اورنگزیب، سیکرٹری اطلاعات اور ان کی ٹیم کاخصوصی شکریہ ادا کرتےہیں۔ انہوں نے ایک بڑی ذمہ داری ادا کی ہے۔ یہ صحافت کے میدان میں ایک انقلابی قدم ہے۔ ورکنگ جرنلسٹ اپنے فرائض کی ادائیگی بہت سے چیلنجز اور خطرات کاسامنا کرتے ہیں۔

پاکستان کو ڈیجیٹل ریپازٹری آف فیڈرل لاز، موبائل ایپ اور ویب سائٹ کے اجرا پر وزیر قانون اور ان کی ٹیم کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں، اس سے اب قوم اور پوری دنیا کو قوانین تک رسائی حاصل ہو گی۔ تمام قوانین اور آئینی دفعات سے فوری طور پر مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج اہم اور تاریخی دن ہے جب وزیراعظم کی ہدایت پر ورکنگ جرنلسٹس اور فنکاروں کے لیے ہیلتھ کارڈ جاری کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل وزارت اطلاعات اور اسٹیٹ لائف کے مابین ہیلتھ انشورنس کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے، آج اس ہیلتھ انشورنس کا باضابطہ اجرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا بحیثیت اپوزیشن لیڈر جو وژن تھا، آج اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں