خسارے کی شکار پاکستان کی قومی پرچم بردار فضائی کمپنی کی نج کاری کا فیصلہ

نجکاری اس وقت ہو گی جب پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ مالیاتی نظم وضبط کے منصوبوں پر اتفاق کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان میں ان دنوں خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن - پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز - کی نجکاری کے منصوبوں سے متعلق خبریں گردش میں ہیں، جبکہ آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق حکومت ملک کے مختلف ہوائی اڈوں کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

نجکاری کا فیصلہ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے "غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ کو پارلیمنٹ کی طرف سے قانون میں ترمیم کے بعد نجکاری کے جاری پروگرام کے فعال نجکاری منصوبوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔"

کمیٹی نے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی بھی حمایت کی تاکہ روزویلٹ ہوٹل نیویارک کے لین دین سے متعلق کارروائی کی جائے جو پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ کا اثاثہ ہے۔

پاکستان آئندہ تین ماہ میں برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کی امید رکھتا ہے جو جعلی پائلٹ اسکینڈل کے بعد پی آئی اے سروس معطل ہونے کی وجہ سے اس وقت بند ہیں۔

جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل کے بعد سے پی آئی اے کی یورپ اور برطانیہ کے لیے پروازیں 2020 سے معطل ہیں۔ اس سکینڈل کی بنا پر یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے یورپی بلاک میں پرواز کے لیے قومی کیریئر کی اجازت منسوخ کر دی تھی۔

سرکاری ملکیتی ادارہ پی آئی اے پر سینکڑوں ارب روپے کے بقایا جات واجب الادا ہیں اور یہ شدید خسارے کا شکار ہے۔ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ مالیاتی نظم و ضبط کے منصوبوں پر رضامندی کے بعد اس کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان نے جون میں آئی ایم ایف سے 3 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ حاصل کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں