خوراک و زراعت کی نمائش، پاکستان کو مشرق وسطیٰ سے سرمایہ کاری ملنے کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے زرعی شعبے کی برآمدی صلاحیت کو ظاہر کرنے کے لیے کراچی میں پہلی بین الاقوامی خوراک اور زراعت کی نمائش کا افتتاح ہوا۔ اس افتتاح کے بعد جمعرات کو ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملک کو مشرق وسطیٰ سے ملنے والی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے زیرِ اہتمام تین روزہ نمائش کا افتتاح صوبہ سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے کراچی ایکسپو سینٹر میں کیا۔ اس تقریب میں 200 سے زائد نمائش کنندگان ایک جگہ جمع ہوئے جنہوں نے 55 ممالک کے غیر ملکی مندوبین کے لیے وسیع پیمانے پر زرعی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کو نمائش کے لیے پیش کیا۔

افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ٹیسوری نے ایک حالیہ معاہدے کا ذکر کیا جو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے کراچی بندرگاہ کی ترقی کے لیے کیا گیا ہے۔

ٹیسوری نے مزید کہا: "آپ آئندہ دنوں میں دیکھیں گے کہ تمام خلیجی ریاستیں پاکستان آئیں گی اور متحدہ عرب امارات کی طرح معاہدوں پر دستخط کریں گی۔" انہوں نے اپنی بات میں مزید اضافہ کیا۔ "مستقبل میں ان معاہدوں پر حکومتیں خود دستخط کریں گی۔"

متحدہ عرب امارات کی ابوظہبی پورٹس نے اس سال کے شروع میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ساتھ ایک 50 سالہ رعایتی معاہدے پر دستخط کیے تھے جو ساحلی جنوبی شہر کراچی میں ایک بلک اور جنرل کارگو ٹرمینل تیار کرنے کے لیے کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اس منصوبے کے تحت 10 سال کی مدت میں پاکستان میں 220 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

گورنر نے کہا کہ ملکی قیادت اپنی تاریخ میں پہلی بار معاشی ترقی کے لیے سنجیدہ ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "75 سالوں میں پہلی بار پاکستان کی معاشی ترقی کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔"

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ آئندہ سال تک ملکی برآمدات میں کم از کم تین گنا اضافہ ہو گا۔

ٹیسوری نے کہا کہ نمائش میں 600 سے زائد غیر ملکی مندوبین کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔

جدہ میں قائم جحف گروپ کے ایک کمرشل مینیجر سید محی جو پھلوں اور سبزیوں کا کاروبار کرتے ہیں، نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی برآمدی صلاحیت سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا۔ "یہ میرا اس ملک کا پہلا دورہ ہے۔ جہاں تک کاروبار کا تعلق ہے تو وہاں پھلوں، سبزیوں اور مچھلی جیسی کھانے پینے کی چیزوں کے کاروبار کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک اور سعودی عرب کی منڈیوں کی خدمت کے لیے پاکستان ایک مثالی مقام رکھتا ہے۔ محی نے خاص طور پر پاکستانی آموں اور ترش پھلوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں دنیا میں بہترین قرار دیا اور کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ کے صارفین کے لیے موزوں ہیں۔

نائجیریا کے ایک وفد نے بھی یہ کہا کہ وہ بہتر معیار کی خوراک کی مصنوعات کی تلاش میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

نائیجیریا میں پاکستان کے ہائی کمیشن میں تجارت اور ترقی کے افسر انیگبو الیگزینڈر نواچوکوو نے عرب نیوز کو بتایا، "زیادہ تر نائیجیرین مندوبین جو آج یہاں موجود ہیں، انہیں جو چاہیے وہ حقیقت میں یہاں مل گیا ہے اور وہ اسے خرید کر گھر لے جا رہے ہیں۔"

نمائش میں چینیوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی اور وہ پاکستان سے درآمد یا برآمد کرنے کے لیے مصنوعات کی تلاش میں تھے۔

چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن کے ایگریکلچر پراجیکٹ مینیجر ایلن ژی نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں بڑی صلاحیت ہے اور ان کی کمپنی ملک میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا۔ "پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس میں سپلائی چین اور حتیٰ کہ ویلیو ایڈڈ پرزوں میں بھی بڑی صلاحیت ہے۔ لہذا ایک کمپنی کے طور پر ہم سپلائی چین اور ویلیو ایڈیشن میں سرمایہ کاری کے لیے بھی تیار ہیں۔"

انہوں نے بات کو جاری رکھا۔ "مستقبل میں ہم نہ صرف پاکستان کو کچھ جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنا چاہیں گے بلکہ اپنے مینوفیکچررز کو [یہاں] لا کر رکھنا چاہیں گے۔ مینوفیکچرر یونٹ چین سے ہے لیکن یہ پاکستان میں بنایا گیا ہے۔"

پاکستانی برآمد کنندگان نے بھی اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تقریب ملک کی زرعی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔

پھل اور سبزیاں برآمد کرنے والے وحید احمد نے کہا کہ "نمائش میں غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں آرہے ہیں اور بڑی دلچسپی لے رہے ہیں۔ میرے خیال میں نمائش کے اختتام پر پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً ایک ملین ڈالر کا بزنس ملے گا کیونکہ ہمارے پاس تازہ پھل، سبزیاں اور کھانے پینے کی اشیاء موجود ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں