سپریم کورٹ نے ’عوامی مفاد کے مقدمات میں اپیل کے حق‘ کا قانون کالعدم قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سپریم کورٹ نے ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس یعنی آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلوں میں اپیل کا حق دینے کے ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دیا جسے چیف جسٹس نے پڑھ کر سنایا۔
فیصلے میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کا حق نہیں رکھتی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 19 جون کو ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پنجاب انتخابات کیس میں حکومت نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ پیش کر کے بینچ پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ بینج میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔

ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184کی شق تین کے تناظر میں عوامی مفاد کے مقدمات میں نظر ثانی اپیلیں لارجر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا ذکر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں