پاکستان نے موسیقی کے قومی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے پہلی پالیسی متعارف کروا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے رواں ہفتے پاکستان کی پہلی میوزک پالیسی کی نقاب کشائی کی جس کا مقصد مقامی موسیقاروں کے تخلیقی کاموں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہوئے ملک کے فنی ورثے کا تحفظ کرنا اور اسے فروغ دینا ہے۔

ملک میں موسیقی کا ایک بھرپور اور متنوع ورثہ موجود ہے جس میں کلاسیکی موسیقی، قوالی، غزلیں، اور لوک گیت سمیت مختلف انداز اور روایات شامل ہیں۔

پاکستانی فنکاروں کو رباب اور ستار جیسے روایتی آلات کے استعمال پر بھی عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے جس کو انہوں نے دلکش دھنیں اور تال بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

اورنگزیب نے جمعرات کو پیغام رسانی پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا، "وزیرِ اطلاعات کے طور پر اپنی مدت کے اختتام سے پہلے پاکستان کی پہلی میوزک پالیسی شروع کرنے پر مجھے بہت خوشی ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سبکدوش ہو جانے والی وفاقی کابینہ نے 9 اگست کو اپنے حتمی اور آخری اجلاس میں پالیسی کی منظوری دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی ملک میں موسیقی کے موجودہ منظرنامے کو مضبوط بنانے اور پاکستانی فنکاروں کے تخلیقی کام کو قانونی تحفظ فراہم کرنے میں مدد دے گی۔

انہوں نے کہا، "میں ان تمام لوگوں کی شکر گذار ہوں جنہوں نے اس تاریخی پالیسی میں تعاون کیا بشمول فنکار، وکلاء، اور [وزارت اطلاعات] کے حکام۔"

اورنگزیب نے مزید کہا کہ وہ خاص طور پر وزیر اعظم شریف اور ان کی وفاقی کابینہ کی طرف سے پالیسی کی منظوری اور اسے حقیقت کے روپ میں ڈھالنے پر ان کی شکر گذار ہیں۔

سابق پاکستانی وزیر اطلاعات نے اس سال اپریل میں ایک نیا ویڈیو سٹریمنگ اور اوور دی ٹاپ (او ٹی ٹی) پلیٹ فارم، پی ٹی وی فلیکس بھی دنیا بھر کے ناظرین کے لیے لانچ کیا۔ اس کے ذریعے لوگ اب اپنے ٹی وی اور موبائل فون کی سکرین پر سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں