شاہ سلمان ریلیف سنٹر نے پاکستان میں غذائی تحفظ کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی امدادی ایجنسی 'شاہ سلمان ریلیف سنٹر' نے جمعہ کو پاکستان میں 2023-24 کے لیے غذائی تحفظ کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی کامیابی سے تکمیل کا اعلان کیا۔

ایجنسی نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ اس اقدام سے اب تک 184,800 پاکستانی مستحقین مستفید ہو چکے ہیں۔

شاہ سلمان انسانی امدادی مرکز (کے ایس ریلیف) 88 ممالک میں انسانی ہمدردی کے منصوبوں پر عمل کرتا رہا ہے۔ دنیا بھر میں امدادی ایجنسیوں کے سب سے بڑے انسانی بجٹ میں سے ایک اس ادارے کے پاس ہے۔ اور پاکستان اس کی امداد اور انسانی بنیادوں پر کارروائیوں سے استفادہ کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔

ایجنسی کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس نے پاکستان میں تعلیم، صحت، پانی، صفائی، حفظانِ صحت اور کمیونٹی سپورٹ کے 170 منصوبے مکمل کیے ہیں۔ گذشتہ 17 سالوں میں ان پر مجموعی طور پر تقریباً $163 ملین خرچ ہوئے ہیں۔

ایجنسی نے بیان میں کہا، "شاہ سلمان انسانی امدادی مرکز (کے ایس ریلیف) کو پاکستان میں سال 2023-24 کے لیے اپنے غذائی تحفظ منصوبے کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔"

ایجنسی نے کہا کہ اس نے پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے ملک بھر کے 12 اضلاع میں مقیم سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور دیگر مستحقین میں کل 26,400 غذائی پیکج تقسیم کیے ہیں جن کا وزن تقریباً 2508 ٹن ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "اس اقدام کے پہلے مرحلے نے ملک بھر میں 184,800 استفادہ کنندگان کی زندگیوں پر بہت (اچھا) اثر کیا ہے۔"

گذشتہ ماہ کے ایس ریلیف نے پاکستان کے جنوبی سندھ اور بلوچستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں 12 ریلیف کیمپوں کا بھی اہتمام کیا جس میں آنکھوں کی بیماریوں اور نابینا پن سے نمٹنے کے لیے 5,000 سرجری کی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں