شہبازشریف کا قوم سے الوداعی خطاب، ملک کا نظم ونسق نگران حکومت کو سونپنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیر اعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے قوم سے الوداعی خطاب کیا۔انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز اس اعلان سے کیا کہ وہ اپنی حکومت کی 16 ماہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد ملک چلانے کی ذمہ داری نگران حکومت کو سونپ رہے ہیں۔

سبکدوش ہونے والے وزیراعظم گذشتہ سال اپریل میں اقتدار میں آئے تھے۔ تب اپوزیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

شہباز شریف نے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'ہم آئینی ذرائع سے اقتدار میں آئے ہیں۔ان کی حکومت اپنی مدت کے اختتام پر مطمئن تھی کہ اس نے دیے گئے اختیارات کے استعمال میں بے ایمانی نہیں کی۔

انھوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ کو عبوری وزیر اعظم کے عہدے کے لیے منتخب کیے جانے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق ہمارے عظیم صوبہ بلوچستان سے ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوں۔

وزیراعظم نے ملک کے چیف ایگزیکٹو کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے اعتماد کا اظہار کرنے پر قوم اور دیگر جماعتوں کے رہ نماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ ہم پر اللہ کا احسان ہے کہ انھوں نے ہمیں تاریخ کے بدترین معاشی، سیاسی اور خارجہ پالیسی بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت اور ہمت دی۔وقت اور ریکارڈ گواہ ہوگا کہ ہم نے ملک کو ممکنہ ڈیفالٹ اور اس کے نتیجے میں تباہی سے بچایا۔

اپنی حکومت کے آخری دنوں میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پانے والے بیل آؤٹ قرضے کے معاہدے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس سے ملک میں معاشی استحکام آیا ہے۔

اس کے بعد وزیر اعظم نے اپنی حکومت کی کامیابیوں اور ان اقدامات کا ذکر کیا جنھوں نے ملک کو ترقی اور مالی آزادی کی راہ پر گامزن کیا۔انھوں نے کہا کہ ہم گذشتہ 16 ماہ کے دوران میں کانٹوں اور شعلوں سے لبریز راستے پر چلتے رہے ہیں۔ ہمارے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ پاکستان کو انتہائی تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ ایک دن کی بھی تاخیر سے ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہم نے [اقتدار میں آنے کے فوراً بعد] انتخابات کرائے ہوتے، تو ہمیں سیاسی فائدہ ہوتا۔ لیکن ملک کے سنگین حالات نے ہمیں سیاسی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔ہم خود غرض نہیں تھے اور پاکستان کے قومی مفادات کو ترجیح دیتے تھے۔ہم نے سب سے مشکل فیصلے کیے اور وقت نے ثابت کیا کہ ہم نے صحیح فیصلہ کیا۔وزیراعظم نے مہنگائی کا ذمے دار پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہوئی تھی۔انھوں نے ملک کی حفاظت میں مسلح افواج کی قربانیوں اور بہادری کی بھی تعریف کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں