دبئی سے اسکردو آنے والی پی آئی اے کی پہلی پرواز 80 مسافروں کے ساتھ اتر گئی

4.5 گھنٹے طویل دبئی-اسکردو پرواز ہفتے میں ایک بار چلے گی، اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح دسمبر 2021 میں ہوا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی قومی پرچم بردار فضائی کمپنی ’’پی آئی اے‘‘ کی دبئی سے اسکردو کے لیے پہلی براہِ راست بین الاقوامی پرواز پیر کی صبح 80 مسافروں کو لے کر اتری۔ اس امر کا اعلان ترجمان پی آئی اے نے پیر کے روز کیا۔

اسکردو آنے والی پہلی پرواز کے مسافروں اور حکام نے کہا ہے کہ یہ راستہ پاکستان کے خوبصورت شمالی علاقہ جات کو غیر ملکی مسافروں کے لیے مزید قابل رسائی بنائے گا اور متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے مقامی لوگوں کے لیے سفر میں آسانی ہوگی۔

سکردو ایک خوبصورت وادی ہے جو سطح سمندر سے 7000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور اس کے چاروں طرف برف پوش پہاڑ، قدیم جھیلیں اور سرسبز و شاداب وادیاں ہیں۔ یہ خطہ متعدد جنگلی حیات کا مسکن ہے جن میں برفانی چیتے، پہاڑی بکرے اور مارخور شامل ہیں۔

اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح دسمبر 2021 میں ہوا تھا۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے عرب نیوز کو بتایا، "پی آئی اے کی پہلی بین الاقوامی پرواز 80 مسافروں کے ساتھ دبئی سے اسکردو کے لیے صبح 8:45 پر اتری۔"

میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں پی آئی اے نے فلائٹ آپریشن کو "پی آئی اے اور پاکستانی عوام کے لیے ایک اہم موقع" قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس نئے فلائٹ روٹ کا آغاز اسکردو کو بین الاقوامی مسافروں کے لیے مزید قابل رسائی بنائے گا اور اس خوبصورت خطے میں سیاحت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ اسکردو ایک پوشیدہ ہیرا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اس میں خطے کا ایک بڑا سیاحتی مرکز بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس نئے فلائٹ روٹ سے لوگوں کے لیے سکردو کا دورہ کرنا اور اس کی تمام چیزوں کا تجربہ کرنا آسان ہو جائے گا۔"

تقریباً چار گھنٹے تیس منٹ طویل دبئی-اسکردو پرواز ہفتے میں ایک بار چلے گی۔ پی آئی اے اس روٹ پر خصوصی تعارفی کرایہ پیش کر رہی ہے۔

30 سالہ مسافر محمد ابراہیم جو گذشتہ 10 سالوں سے متحدہ عرب امارات میں کام کر رہے ہیں، نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ براہ راست پرواز کے آغاز پر "بہت خوش اور بہت شکر گذار" ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اس سے پہلے ہم چند چھٹیوں میں گھر نہیں جا سکتے تھے کیونکہ چار سے پانچ دن صرف گھر پہنچنے میں ضائع ہو جاتے تھے۔ اب الحمدللہ اس فلائٹ کی وجہ سے ہم ایک ہی دن میں گھر پہنچ سکتے ہیں… اب ہم سال میں دو سے تین بار آسانی سے گھر کا سفر کر سکتے ہیں جو کہ ماضی میں ممکن نہیں تھا۔"

ایک اور مسافر محمد کاظم نے کہا کہ براہِ راست پرواز "ارزاں اور وقت کی بچت" کرتی ہے۔

کاظم نے عرب نیوز کو بتایا، "براہ راست پرواز ہمارے لیے ایک 'نعمت' ہے۔ میں 2015 سے متحدہ عرب امارات میں کام کر رہا ہوں اور دبئی سے اسکردو کا سفر ہمارے لیے درد سر تھا۔ پہلے آپ کو اسلام آباد یا کراچی جانا پڑتا تھا اور پھر اسکردو۔ اور خراب موسم کی صورت میں کبھی کبھی پورا ہفتہ سفر میں صرف ہو جاتا تھا۔ یہ نہ صرف مالی بوجھ تھا بلکہ ہماری چھٹیاں بھی ضائع ہو جاتی تھیں۔ اب ہم بہت خوش ہیں کیونکہ ہم ایک ہی دن میں گھر پہنچ سکتے ہیں۔"

ایڈیشنل چیف سیکرٹری عزیز احمد جمالی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے دونوں شہروں کو ملانے میں "بہت اہم کردار" ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا۔ "کوششیں بڑھنے دیں۔ سیاح اور مشرق وسطیٰ میں مقیم کارکن دونوں ہی اس براہِ راست پرواز سے براہِ راست مستفید ہوں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں