کراچی میں گونگے اور بہرے مالکان اور عملے والے پزیریا کی مقبولیت میں اضافہ

گونگے اور بہرے بھائی نعمان اور یاسر نے رواں سال مئی میں طعام خانہ 'ہاٹ اینڈ اسپائسی پیزا' کھولا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی میں ایک پزیریا کے کچن میں دو بیرے حسبِ معمول ہفتے کے آخر میں اپنا کاروبار کرنے گئے۔ ان میں سے ایک نے آٹے سے اٹی ہوئی ایک چھوٹی مستطیل میز پر بیلنے کے ساتھ گندھے ہوئے آٹے کی گول روٹیاں بنائیں۔ اور دوسرے نے فریج کے اندر مشروبات کی بوتلیں رکھیں۔ دونوں نے مل کر کام کیا لیکن بات چیت نہیں کی کیونکہ ضرورت نہیں تھی۔

کراچی کے اس پزیریا میں عملے کے ہاتھ بولتے ہیں۔

گلستانِ جوہر کے علاقے میں پرفیوم چوک کے قریب واقع 'دی ہاٹز اور اسپائسی پیزا' ایک چھوٹا پیزیریا ہے جسے 33 سالہ محمد نعمان اور ان کا چھوٹا بھائی محمد یاسر چلاتے ہیں۔ دونوں بھائی جو قوتِ گویائی اور سماعت سے محروم ہیں، نے اس سال مئی میں یہ مشترکہ کاروبار کھولا۔

آؤٹ لیٹ - جو بمشکل ایک چھوٹی دکان کے رقبے سے زیادہ ہے - کی ایک اور مخصوص خصوصیت یہ ہے کہ بھائیوں نے صرف گونگے اور بہرے ملازمین کی خدمات حاصل کیں۔ لیکن مالک کا کہنا ہے کہ گاہک اکثر صرف عملے اور انتظامیہ سے ہمدردی کی وجہ سے نہیں بلکہ یہاں پیش کیے جانے والے پرلطف کھانے کی وجہ سے آتے ہیں۔

نعمان نے گذشتہ ہفتے اشاروں کی زبان میں عرب نیوز کو بتایا جس کی ترجمانی ان کے ایک اور بھائی محمد یامین نے کی۔ "لوگ محض ہمدردی کی وجہ سے ہماری دہلیز پر نہیں آتے۔ وہ ہمارے پیش کردہ کھانوں کے ناقابلِ مزاحمت پرلطف ذائقوں کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔"

انہوں نے کہا۔ "غیر متزلزل عزم اور حقیقی خلوص کے ذریعے ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جو لوگ ہمارے کھانوں کا ایک بار تجربہ کر لیں، وہ وفادار سرپرست کے طور پر دوبارہ آنے کے لیے آمادہ ہوں۔"

صارفین اس سے متفق ہیں

ایک آئی ٹی پروفیشنل افضل حبیب نے 'مٹکا فرائز' کا خوب لطف لینے کے بعد عرب نیوز کو بتایا کہ "مزید اور لذیذ کھانا ازخود ایک کشش کا باعث ہے۔" یہ ڈش بنیادی طور پر ایک چھوٹے سے مٹی کے برتن میں کافی مقدار میں کیچپ، مایو چٹنی اور فرائز پر مصالحہ چھڑک کر پیش کی جاتی ہے۔

حبیب نے مزید کہا کہ "ذائقہ واقعی غیر معمولی ہے اور قیمتیں کافی مناسب ہیں۔"

آؤٹ لیٹ مختلف ذائقوں میں پیزا پیش کرتا ہے بشمول تکا، فجیتا، پیپرونی، افغانی، اور حتیٰ کہ صرف سبزی والا بھی۔ کسی بھی ذائقے کا چھوٹا پیزا 300 روپے، درمیانہ پیزا 450 روپے اور بڑا پیزا 700 روپے میں دستیاب ہے۔

کھانے کے شوق اور سابقہ ملازمتوں کے برے تجربات نے نعمان اور یاسر کو ترغیب دی کہ وہ پیزا بنائیں اور ازخود کاروباری بن جائیں۔

نعمان نے کہا کہ "ہم نے کھانے کا کاروبار شروع کیا کیونکہ کام کی جگہ جہاں میں ملازم تھا وہاں پوری تنخواہ نہیں ملتی تھی اور ضرورت سے زیادہ کام کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔"

نعمان نے کہا۔ "یہ صورتحال ہمارے لیے پریشانی کا باعث تھی۔"

یاسر نے بتایا کہ وہ چھ سے سات سال تک مختلف جگہوں پر کام کرتے ہوئے اکثر اپنا ایک کھانے کی دکان کھولنے کا سوچتے تھے۔

پاکستان میں 'دی ہاٹز اور اسپائسی پیزا' کے ملازمین 13 اگست 2023 کو ایک دوسرے سے اشاروں کی زبان میں گفتگو کر رہے ہیں۔ (اے این فوٹو)
پاکستان میں 'دی ہاٹز اور اسپائسی پیزا' کے ملازمین 13 اگست 2023 کو ایک دوسرے سے اشاروں کی زبان میں گفتگو کر رہے ہیں۔ (اے این فوٹو)

چھوٹے بھائی نے عرب نیوز کو بتایا، "آخرکار میں نے یہ کوشش شروع کی کیونکہ کھانا میرا جنون تھا۔ ہم ذائقوں کے شوقین ہیں اور ہم نے اچھا کھانا تلاش کرنے کے لیے مختلف جگہیں دیکھی ہیں۔"

یاسر نے ایک واقعہ یاد کیا کہ کس طرح ایک شخص نے لذیذ پیزا بنانے کی صلاحیت پر صرف اس لیے شک کیا کہ بھائی اور عملہ گونگا اور بہرا تھا۔

یاسر نے کہا، "ہم نے مشورہ دیا کہ وہ پہلے انہیں [پیزا] آزمائیں اور پھر رائے قائم کریں۔ انہوں نے شروع میں ایک چھوٹا پیزا آرڈر کیا لیکن اس کا مزہ چکھنے کے بعد اتنا متاؑثر ہوئے کہ انہوں نے ایک بڑا آرڈر کیا۔ تب سے وہ ہمارے باقاعدہ گاہک بن گئے ہیں۔"

نعمان نے کہا کہ بہرے اور گونگے عملے کی خدمات حاصل کرنے میں پاگل پن کا ایک طریقہ بھی تھا۔

انہوں نے وضاحت کی۔ "اپنے جیسے ساتھی معذور افراد کے ساتھ بات چیت کرنا کافی آسان ہے۔ ہم ان کی اشاروں کی زبان کو سمجھنے میں ماہر ہیں اور وہ بدلے میں ہماری بات کو سمجھتے ہیں۔"

نعمان نے کہا کہ ایسے عملے کی خدمات حاصل کرنے کے فیصلے میں ہمدردی کا بھی اہم کردار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ انہیں دوسری جگہوں پر کام کرنے میں کن چیلنجوں کا سامنا تھا۔

33 سالہ نوجوان نے کہا۔ "بنیادی طور پر انہیں تنخواہ سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ دوسروں کو سمجھانے اور خود بات کو سمجھنے میں چیلنجوں کی وجہ سے رابطے کی کمی بھی محسوس کرتے ہیں۔"

اس دوران یاسر نے کہا کہ وہ کاروبار میں قدم رکھ کر ایک مثبت پیغام دینا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا۔ " کچھ افراد اپنی معذوری کو بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ معذوری اللہ کی مرضی ہے لیکن انہیں بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں