جڑانوالہ: دو مسیحی نوجوانوں کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ کر لیا گیا

’’شہریوں نے اس واقعے کے بعد مسیحی بستی کا گھیراؤ کر کے توڑ پھوڑ کی اور چرچ کو نقصان پہنچایا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

صوبہ پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں توہین مذہب کے الزمات لگا کر متعدد گرجا گھروں کو توڑ پھوڑ کے بعد نذر آتش کردیا گیا۔

پولیس کے پاس درج کروائی گئی ابتدائی رپورٹ ’’ایف آئی آر‘‘ کے مطابق دو مسیحی شہریوں پر الزام ہے کہ انہوں نے جڑانوالہ کے سنیما چوک میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہینِ آمیز کلمات کہے جب کہ قرآن کی بے حرمتی بھی کی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر جب پولیس جڑانوالہ کے سنیما چوک پہنچی تو وہاں قرآن کے اوراق موجود تھے جن پر سرخ قلم سے توہین آمیز الفاظ لکھے ہوئے تھے جب کہ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد مشتعل ہجوم مقامی گرجا گھر کے باہر جمع ہوا۔ ہجوم میں شامل کئی افراد نے گرجا گھر میں توڑ پھوڑ شروع کی بعد ازاں اسے آگ لگا دی۔

ہجوم میں شامل کئی افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ علاقے میں آباد مسیحی برادری کے افراد گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عثمان انور نے میڈیا کو بتایا ہے کہ پولیس مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ علاقے میں ایک بڑا گرجا گھر جب کہ کچھ دو سے تین مرلے کے چھوٹے چرچ ہیں۔

آئی جی پولیس کا مزید کہنا تھا کہ صورتِ حال کنٹرول میں کرنے کے لیے مقامی امن کمیٹیوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ (اس علاقے میں) پتلی گلیوں میں دو سے تین مرلے پر مشتمل چھوٹے گرجا گھر واقع ہیں اور ایک مرکزی چرچ بھی موجود ہے، انہوں نے گرجا گھروں کے کچھ حصوں میں توڑ پھوڑ کی ہے۔

حکام نے بتایا کہ امن کمیٹوں کے ساتھ رابطے قائم کر کے صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور صوبے بھر میں پولیس کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

عثمان انور نے مزید بتایا کہ عیسائی برادی سے تعلق رکھنے والے علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے کیونکہ لوگ ان کے خلاف ہو گئے تھے۔

تاہم عیسائی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

پولیس نے دو ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی توہین مذہب کی دفعات 295 (بی) اور 295 (سی) 295 سی اور 295 بی کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ خیال رہے کہ 295 سی میں توہینِ مذہب کا جرم ثابت ہونے پر عدالت سے موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے لوگوں سے گھروں سے نکلنے کی اپیل کر رہا ہے۔

ایک اور ویڈیو میں مقامی پولیس افسر مشتعل افراد کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔ لیکن مشتعل ہجوم ملزمان کو فوری سزا دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں چرچ آف پاکستان کے صدر بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ بائبل کی بے حرمتی کی گئی ہے اور قرآن شریف کی بے حرمتی کے جھوٹے الزامات عائد کرکے عیسائیوں پر تشدد اور انہیں ہراساں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم انصاف کے لیے دُہائی دے رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کارروائی اور انصاف فراہم کرنے والوں سے تمام شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری طور پر مداخلت کرنے کا مطالبہ اور یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ہماری جانیں ہماری اس سرزمین پر قیمتی ہیں جس نے ابھی آزادی کی تقریبات منائی ہیں۔ بشپ آزاد مارشل نے مزید کہا کہ تمام پادری، بشپس اور لوگ اس واقعے پر نہایت غمگین اور تکلیف میں ہیں۔

نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

'ایکس' پلیٹ فارم پر نگران وزیراعظم نے بیان میں کہا کہ جڑانوالہ، فیصل آباد سے موصول ہونے والی خبروں پر دل انتہائی رنجیدہ ہے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مجرموں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لائیں، یقین رکھیں کہ حکومت پاکستان برابری کی بنیاد پر اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

سابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جڑانوالہ پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کی تحصیل ہے۔ 2009 میں اس سے ملحقہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا۔

اس وقت توہینِ مذہب کے الزام میں مشتعل افراد نے مسیحی افراد کے کئی گھر جلا دیے تھے۔ ان واقعات میں سات مسیحی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں