عبوری حکومت کا پہلا’’تحفہ‘‘؛پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے لِٹرتک کا اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کی نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 18 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لِٹر اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بالترتیب 290.45 روپے اور 293.40 روپے فی لِٹر ہوگئی ہے۔

عبوری حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا یہ اعلان منگل کی نصف شب کیا ہے اور سبکدوش وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں سابقہ حکومت کی جانب سے دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے اضافے کے ایک پندرہ دن بعد کیا گیا۔

فنانس ڈویژن کی جانب سے نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔اس میں قیمتوں میں اضافے کا یہ جواز پیش کیا گیا ہے کہ گذشتہ پندرہ روز کے دوران میں بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔اس کے نتیجے میں پاکستان میں صارفین کی قیمتوں پر بھی نظر ثانی کی جا رہی ہے۔

انوار الحق کاکڑ کے نگران وزیراعظم بننے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ پہلی نظرثانی ہے اور بہ الفاظ دیگر عوام کے لیے مہنگائی کا پہلا تحفہ ہیں۔فنانس ڈویژن کے نوٹی فکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 16 اگست (بدھ) سے ہوگا۔

پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج کے معاہدے کے تحت 50 روپے فی لِٹر تک پیٹرولیم لیوی لگانے کا وعدہ کیا ہے۔گذشتہ ماہ عالمی قرض دہندہ ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے 9 ماہ کے اسٹینڈ بائی معاہدے کی منظوری دی تھی تاکہ 'حکام کے معاشی استحکام کے پروگرام کی حمایت' کی جا سکے۔
آئی ایم ایف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بورڈ نے 2.25 ارب ڈالر کے خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) کی رقم کے لیے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دی تھی - ریزرو فنڈ کو ادارہ اپنے رکن ممالک کے اکاؤنٹس میں جمع کرتا ہے۔پاکستان کو ملنے والے قریباً تین ارب ڈالر اس کے کوٹے کا 111فی صد بنتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں