فیک نیوز کے خاتمے کے لیے صدر نے ترمیم شدہ میڈیا بل کی منظوری دے دی

پیمرا ترمیمی ایکٹ 2023 نے جھوٹی خبریں دانستہ پھیلانے پر مالی جرمانہ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 ملین روپے کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے ریاستی میڈیا نے خبر دی ہے کہ صدرِ پاکستان عارف علوی نے منگل کو ایک ترمیم شدہ میڈیا بل پر دستخط کیے جس کا مقصد "جعلی خبروں" کو ناکام بنانا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ترمیمی بل 2023 میں "فیک خبروں"، "غلط معلومات" اور "غلط اطلاعات" کی تعریفیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ دانستہ جھوٹی خبریں پھیلانے پر مالی جرمانہ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 ملین روپے کردیا گیا ہے۔

یہ بل تمہید میں "خبر" کے بجائے "مصدقہ خبریں" کی اصطلاح استعمال کرتا ہے اور عوامی تفریح، تعلیم اور معلومات کے دائرہ کار کو وسیع کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "صدر ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2023 کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت بل کی منظوری دی۔"

نئے قانون کے تحت چیئرمین پیمرا کی بجائے تین رکنی کمیٹی کو چینل بند کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس بل میں شکایات کی کونسل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو صحافتی تنظیموں کی طرف سے تنخواہوں کی تاخیر سے ادائیگی کے مسائل کو حل کرے گی۔

سبکدوش ہونے والی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ پیمرا بل کو "تمام حصہ داران اور متعلقین کے ساتھ وسیع مشاورت" کے بعد حتمی شکل دی گئی تھی۔

مریم اورنگزیب نے مزید کہا تھا۔ "بل کا بنیادی مقصد صحافیوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا ہے اور پاکستان میں ایک آزاد، ذمہ دار اور اخلاقی میڈیا ماحول کو فعال کرنا ہے جیسا کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں رائج ہے۔"

تاہم سبکدوش ہونے والی حکومت پر تنقید کرنے والے میڈیا آؤٹ لیٹس نے اس وقت اس پر اعتراض کیا تھا۔ ایک پاکستانی ٹیلی ویژن نیوز چینل اے آر وائی نیوز نے اسے نیوز چینلز اور اہم واقعات کی کوریج پر پابندیاں لگانے کی کوشش قرار دیا۔

چینل کے صدر عماد یوسف نے کہا کہ کوئی حکومت یا بیوروکریٹ کسی نیوز چینل کے نیوز ایجنڈے کا تعین نہیں کر سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں