پاکستانی علماء اور سفارت کاروں نے مسلم اتحاد پرعالمی مکالمے کے لیے سعودی عرب کی تحسین

مملکت نے 13-14 اگست کو مکہ مکرمہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کی جس کا موضوع تھا: 'ابلاغ اور انضمام'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستانی مذہبی علماء اور سفارت کاروں نے منگل کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا جو اس نے عالمی مکالمے اور مختلف ممالک کے اسلامی علماء اور رہنماؤں کے درمیان تعاون کے لیے انجام دیں جن کا مقصد اسلام کے مستند پیغام کو مؤثر طریقے سے پہنچانا اور مسلم دنیا کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دینا تھا۔

مملکت نے 13-14 اگست کو مکہ مکرمہ میں عالمی مذہبی اداروں کے ساتھ ایک دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کی جس کا موضوع "ابلاغ اور انضمام" تھا۔ اس تقریب میں 85 ممالک کے 150 ممتاز علماء، مفکرین، اسلامی انجمنوں کے سربراہان اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔

سعودی وزارت برائے اسلامی امور اور دعوت و رہنمائی کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس کانفرنس میں سات سیشنز منعقد ہوئے جہاں شرکاء نے متنوع موضوعات پر تحقیق پیش کی۔

سیشنز میں اسلام کی خدمت، رواداری اور بقائے باہمی کو فروغ دینے، قرآن و سنت میں اعتدال اور رواداری، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور معاشرے کو الحاد اور تفرقہ بازی سے بچانے کی کوششوں کا احاطہ کیا گیا۔ کانفرنس میں جاری کردہ ایک حتمی اعلامیے میں قرآن پاک کے نسخوں کو بار بار جلانے کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی اور انہیں نفرت کو ہوا دینے، استثناء کی حوصلہ افزائی اور عالمی سطح پر مشترکہ انسانی اقدار کی مخالفت کرنے والے اقدامات قرار دیا گیا۔

کانفرنس میں شرکت کرنے والے ایک پاکستانی مذہبی عالم سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ مباحثے کا مرکزی موضوع دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش عصری چیلنجز جیسے قرآن سوزی کے واقعات اور اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے معاملات ہیں۔ عبدالکریم ان آٹھ پاکستانی علماء میں شامل تھے جنہوں نے کانفرنس میں شرکت کی۔

انہوں نے مکہ سے عرب نیوز کو بتایا، "کانفرنس کے دوران دنیا بھر کے علماء نے اس موضوع پر اپنی بصیرت کا اظہار کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ تجربے کی حامل تعلیم یافتہ مذہبی شخصیات کو فتویٰ جاری کرنے کا ذمہ دار ہونا چاہیے۔"

یہ 14 اگست 2023 کو مکہ مکرمہ، سعودی عرب میں "ابلاغ اور انضمام" کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستانی مذہبی علماء کی تصویر ہے۔ (تصویر بشکریہ: سینیٹر حافظ عبدالکریم)
یہ 14 اگست 2023 کو مکہ مکرمہ، سعودی عرب میں "ابلاغ اور انضمام" کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستانی مذہبی علماء کی تصویر ہے۔ (تصویر بشکریہ: سینیٹر حافظ عبدالکریم)

عبدالکریم کے مطابق اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ اسلام سخت گیر موقف کے بجائے ایک متوازن نقطۂ نظر کو فروغ دیتا ہے اور یہ کہ شدت پسند نقطۂ نظر نے اسلام کی شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا، "لہذا مسلمانوں کو سختی، عدم برداشت اور فرقہ واریت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے ایک معتدل طریقہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔"

جدہ میں پاکستانی مشن کے ترجمان حمزہ گیلانی نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس اسلام کے مستند پیغام کو مؤثر طریقے سے پہنچانے اور دنیا بھر میں مسلم کمیونٹیز کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے۔

گیلانی نے عرب نیوز کو بتایا، "مختلف ممالک کے اسلامی علماء اور رہنماؤں کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے میں سعودی عرب کی زبردست کوششیں واقعی قابل تعریف ہیں۔ یہ اسلام کی حمایت اور خدمت کے لیے مملکت کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت دیتی ہیں کہ انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے والی اعتدال کی ثقافت کو فعال طور پر فروغ دیا جائے۔"

گیلانی نے کہا کہ ان قابلِ تحسین اقدامات کے ذریعے سعودی عرب نے امتِ مسلمہ کے اندر اتحاد، افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عبدالکریم نے کہا کہ مذہبی احکام کی جڑیں قرآن اور صحیح احادیث میں ہونی چاہئیں جو اعتدال پسند طرزِ عمل کی عکاسی کریں اور عدم برداشت سے مبرا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا، "اعتدال کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان لوگوں پر [کانفرنس میں] تنقید کی گئی جو اپنے مذہبی عقائد میں عدم برداشت کی حمایت کرتے ہیں۔"

پاکستانی علماء نے کہا کہ سعودی عرب نے جدیدیت کی طرف بڑھتے ہوئے بھی قرآن و سنت کو اپنی قانونی اور نظامی بنیاد کے طور پر برقرار رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن و سنت پر مبنی سعودی عرب کے بنیادی اصول برقرار ہیں جو نئی پیشرفت اور جدید ٹیکنالوجی کو سموئے ہوئے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں