پی آئی اے کے ملازمین کا نج کاری کے خلاف علامتی ہڑتال کا اعلان

قومی فضائی کمپنی کے ملازمین آج بروز جمعرات سہ پہر 3 بجے سے شام 5:00 بجے تک بکنگ دفاتر میں علامتی ہڑتال شروع کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ملازمین نے قومی پرچم بردار ادارے کی نج کاری کے حکومتی اقدام کے خلاف بدھ کو "علامتی" ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو "مکمل ہڑتال" کی جائے گی۔

گذشتہ ہفتے وزیر اعظم شہباز شریف کی سبکدوش ہونے والی حکومت نے کہا کہ اس نے خسارے کا شکار پی آئی اے کی نج کاری کا منصوبہ بنایا ہے کیونکہ پاکستان کی قومی ایئرلائن پر سینکڑوں ارب روپے خسارے اور بقایا جات کی مد میں واجب الادا ہیں۔

حکومت کا پی آئی اے کی نج کاری کا اقدام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے معاہدے کے مطابق ہو گا جسے پاکستان نے رواں سال جون میں حاصل کیا تھا۔ جنوبی ایشیائی ملک نے مالیاتی نظم و ضبط کے منصوبوں پر اتفاق کیا جس میں خسارے کا شکار اداروں کی نج کاری بھی شامل تھی۔

قومی ائیر لائن کی سی بی اے پیپلز یونٹی یونین کے صدر ہدایت اللہ نے عرب نیوز کو بتایا۔ "ہم نے پی آئی اے کی نج کاری اور پی آئی اے کے کارکنوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کے خلاف علامتی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔"

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دیگر تمام محکموں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے لیکن پی آئی اے ملازمین کے لیے ایسا نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا۔ "اس بات نے ہمیں پاکستان بھر میں پی آئی اے کے بکنگ دفاتر پر سہ پہر 3 سے شام 5 بجے تک [جمعرات کو] علامتی ہڑتال شروع کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس کے بعد ہم اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔"

ہدایت اللہ نے کہا کہ اگر ملازمین کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ آخری حربے کے طور پر "مکمل ہڑتال" کی طرف جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے ہم پر امید ہیں کہ حکومت ہمارے مطالبات پر توجہ دے گی، پی آئی اے کی نج کاری کو روکے گی اور ہماری تنخواہوں میں مناسب اضافہ نافذ کرے گی۔

ہدایت اللہ نے امید ظاہر کی کہ اگر نگران حکومت پی آئی اے کی نج کاری کو واپس نہیں لے سکتی تو کم از کم اس عمل کو نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے تک روک سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین نے ابتدائی طور پر علامتی ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ قومی پرچم بردار ادارے کو اپنا ادارہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا۔ "تاہم ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ حکومت ہمیں علامتی ہڑتال سے آگے بڑھنے پر مجبور نہیں کرے گی۔"

2016 میں پی آئی اے نے کہا کہ اسے 1.8 بلین روپے کا حیران کن نقصان اٹھانا پڑا جب اس وقت کی حکومت کے پی آئی اے کی نج کاری کے فیصلے کے خلاف سینکڑوں ملازمین نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا تھا۔

پاکستان کے لیے ایک زمانے میں باعثِ فخر رہنے والے پی آئی اے کے کئی طیاروں کو برسوں کے دوران ناکارہ بنا دیا گیا ہے تاکہ دوسروں کو پرواز میں رکھا جا سکے جبکہ صارفین اکثر خراب سروس اور طے شدہ پروازیں منسوخ ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں