کابل کی مالی مشکلات کے سبب کراچی کی افغان بستی میں پناہ گزینوں کا سکول بندش پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کراچی کے شمالی بائی پاس کے کنارے واقع ایک مہاجر انکلیو میں افغان بستی کے قلب میں ایک اسکول کی خستہ حال عمارت ایستادہ ہے جو تقریباً دو سال قبل ہمسایہ ریاست پر طالبان کی حکمرانی کا سایہ پڑنے کے فوراً بعد غیر فعال ہوگئی تھی۔

تعلیمی سہولت کی بندش سے سینکڑوں نوجوان طلباء کی زندگیاں متاؑثر ہوئی ہیں جن میں ایک 11 سالہ لڑکا گل احمد بھی شامل ہے جو اپنی برادری کے بزرگ افراد کے لیے سائیکلوں کی مرمت کرنے والی قریبی ورکشاپ میں ملازم ہے۔

ہر روز راستے میں بند اسکول سے گذرتے ہوئے احمد اپنے دوستوں اور درسی کتابوں والے بےفکر بچپن کی خواہش کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے عرب نیوز کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ اگر یہ اسکول اب بھی کھلا ہوتا تو میرے پاس اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع ہوتا۔

افغانستان کے اصلاح پسند بادشاہ غازی امان اللہ خان کے نام پر قائم اس سکول نے اپنے دروازے 2006 میں ایک ناہموار اور ناصاف گلی میں کھولے۔ یہ جنگ زدہ ملک کی وزارتِ تعلیم کی زیرِ نگرانی چلایا جاتا تھا جس کا واحد مقصد اس غریب محلے میں رہنے والے افغانوں کی خدمت کرنا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یعنی یو این ایچ سی آر کے مطابق کراچی میں سرکاری طور پر 65,000 سے زائد رجسٹر شدہ افغان ہیں۔ اس آبادی کا ایک بڑا حصہ افغان بستی میں رہتا ہے جبکہ دیگر شہر کے ایک مختلف حصے میں مرکوز ہیں جو الآصف محلے کے نام سے معروف ہے۔

اگست 2021 میں سقوطِ کابل کے بعد افغانستان کو شدید مالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے اس کے رہنماؤں کے لیے پاکستان میں اسکولوں کو فنڈ دینا مشکل ہو گیا۔

اسکول کے پرنسپل حبیب الرحمٰن نے عرب نیوز کو بتایا۔ "ہم نے اپنی مدد آپ کی بنیاد پر اسے برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ہم پانچ ماہ تک کام کرنے میں کامیاب رہے لیکن کافی وسائل نہ ہونے کی بنا پر کام جاری نہیں رکھ سکے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ جب اس تعلیمی سہولت کی انتظامیہ نے اس کے دروازے بند کرنے کا فیصلہ کیا، اس وقت 12 مرد اور چار خواتین اساتذہ کی ایک ٹیم ملازم تھی ۔ یہ فیکلٹی ممبران 180 نوجوان لڑکیوں سمیت 430 طلباء کو تعلیم دینے کے ذمہ دار تھے۔

اسکول میں سینئر لیول پر بھی مخلوط تعلیم کی سہولت تھی۔

جس وقت پرنسپل عمارت کے راہداریوں میں عرب نیوز کی رہنمائی کر رہے تھے تو فضا لاوارثی کے ایک خوفناک احساس سے بھر گئی اور وہ جگہ ایک خاموش و سنسان منظر پیش کرنے لگی جہاں ایک زمانے میں طلباء کی رونق اور ہلچل ہوا کرتی تھی۔

اسکول میں انٹرمیڈیٹ تک تعلیم مکمل کرنے والے ایک سابق طالب علم نقیب اللہ خان نے کہا، "جب میں یہاں آیا اور حالات دیکھے تو اس صورتحال سے میرے دل کو بہت تکلیف ہوئی۔"

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اگر سکول کے دروازے ایک بار پھر کھل گئے تو افغان بچے واپس آ جائیں گے۔

اسکول کی سابقہ ٹیچر حسینہ قاضی خان اب سید جمال الدین الافغانی اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں جو الآصف محلے میں پناہ گزینوں کے لیے ایک اور تعلیمی سہولت فراہم کرتا ہے۔

جو طلباء اب اپنے اسکول نہیں جا سکتے، انہوں نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ "بچے (تعلیم سے) محروم ہیں۔ وہ اکثر کیبنوں اور دکانوں میں مزدوری کے کام کا سہارا لیتے ہیں۔ جب میں یہ سب دیکھتی ہوں تو گہری ندامت کا احساس ہوتا ہے۔"

خان نے مزید کہا کہ ان کے لیے یہ بات خاصی تکلیف کا باعث ہے کہ لڑکیاں ان حالات کی وجہ سے سکول چھوڑ دیتی ہیں جو ان کے قابو سے باہر ہیں۔

انہوں نے بات کو جاری رکھا۔ "ایک عورت کے طور پر میرے لیے یہ ناقابلِ قبول ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ دوسری لڑکیوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے جیسے مجھے ملا تھا۔"

جمال الدین الافغانی اسکول کے پرنسپل سید مصطفیٰ نے فنڈز میں کمی کی وجہ سے تعلیمی ادارے کی مالی کمزوری کا اعتراف کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ہمارے پاس سپورٹ کی کمی ہے۔ مالی مسائل برقرار ہیں۔ اگر اگلے چند مہینوں میں امداد نہ ملی تو یہ اسکول بھی بند ہو سکتا ہے۔"

اپنی ورکشاپ میں بیٹھ کر نوجوان احمد نے اپنے جذبات کی عکاسی کی کہ اسکول کس طرح اس کے اور اس کے دوستوں کے لیے بہترین مواقع پیش کر سکتا تھا۔

اس نے (ماضی کو) یاد کیا۔ "اسکول اچھا تھا۔ وہاں پڑھتا تو بہت اچھا ہوتا۔ کلاسز بہترین تھیں اور تدریس شاندار تھی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں