پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اسلام آباد سے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں حکام نے حراست میں لے لیا ہے۔

قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے صحافیوں کو بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی آیندہ پارلیمانی انتخابات میں کسی بھی تاخیر کو چیلنج کرے گی۔ملکی آئین کے مطابق قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر نئے انتخابات کاانعقاد ضروری ہے، جس کا مطلب ہے نومبر کے اوائل میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب کے لے پولنگ ہونی چاہیے۔

پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو ایک بار پھر غیر قانونی طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔انھیں وفاقی دارالحکومت میں ان کی رہائش گاہ سے پولیس کی بھاری نفری نے حراست میں لیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق قریشی کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ہیڈ کوارٹر لے جایا جا رہا ہے۔ایف آئی اے اس وقت پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سے ایک سفارتی کیبل سے متعلق کیس میں پوچھ تاچھ کر رہی ہے جو مبیّنہ طور پر ان کی تحویل سے غائب ہو گئی تھی اور جسے وہ طویل عرصے سے انھیں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے "غیر ملکی سازش" کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمرایوب کے مطابق قریشی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد گھر لوٹے تھے۔اس میں انھوں نے تصدیق کی کہ انھوں نے حال ہی میں غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کی تھی۔

نیشنل پریس کلب میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے تصدیق کی کہ انھوں نے اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمشنر سے ناشتے پر ملاقات کی، اس موقع پر دیگر اہم سفیر بھی موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اس ملاقات میں موجودہ سیاسی صورت حال کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا اور سکیورٹی کی صورت حال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔انھوں نے پی ٹی آئی سربراہ کی جانب سے ملاقات میں زیر بحث آنے والے سفارتی معاملے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اچھی بات چیت ہوئی جو میڈیا میں اس طرح پیش کی گئی جیسے یہ عمران خان کی رہائی پر مرکوز ہو۔

انھوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں مزید تقسیم کی میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کردیا۔جیو نیوز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں 5 اگست کو پی ٹی آئی سربراہ کی گرفتاری کے بعد پارٹی کی کور کمیٹی میں ایک اور تقسیم اور اندرونی کش مکش دیکھنے میں آئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری جنرل عمرایوب دونوں مبیّنہ طور پر عمران خان کی جگہ پارٹی سربراہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس پرتبصرہ کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک میڈیا ہاؤس نے کنفیوژن پھیلانے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے پارٹی کی کور کمیٹی اور لیگل ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی خبریں من گھڑت ہیں، غلط معلومات پھیلانے کا منصوبہ ہے اور پارٹی کی صفوں میں الجھن پیدا کرنے اور ان کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔اس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ وقت آنے پرثابت ہوجائے گا۔

انھوں نے پارٹی کے اندر قیادت کی جدوجہد کے کسی بھی تصور کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ عمران خان اب بھی چیئرمین ہیں اور کور کمیٹی نے اس کی توثیق کےلیےایک قرارداد منظور کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں