آرمی ایکٹ ترمیمی بل مجھے دھوکے میں رکھ کر منظور کیا گیا: عارف علوی

صدر مملکت کی آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق صدر مملکت عارف علوی نے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ بل کی منظوری سے متعلق ان کو دھوکے میں رکھا گیا، وہ اس بل کے حق میں نہیں تھے اور بل کو واپس بھیجنا چاہتے تھے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس ( سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں عارف علوی نے کہا کہ خدا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں ہوں۔

انہوں نے لکھا کہ میں نے اپنے عملے سے کہا تھا کہ وہ دستخط کے بغیر بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس بھیج دیں تاکہ انہیں غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے لکھا کہ جب عملے سے کہا گیا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر اسمبلی میں واپس بھیج دیں تاکہ ان بلوں کو غیر مؤثر بنایا جا سکے، تاہم ان کے عملے نے ان کی مرضی کے برعکس ان کی حکم عدولی کی۔

انہوں نے لکھا کہ عملے سے کئی بار تصدیق کی گئی کہ آیا وہ بل واپس کر دیے گئے ہیں جس پر یقین دلایا گیا کہ جی وہ بل واپس کر دیے گئے ہیں۔

صدر مملکت عارف علوی کے مطابق انکو آج اس بات کا علم ہوا ہے کہ ان کے عملے نے ان کے حکم کے برخلاف ان کی مرضی کے بغیر بل کو واپس نہیں بھیجا گیا۔

انہوں نے لکھا جیسا کہ اللہ سب جانتا ہے، وہ تو مجھے معاف کردے گا لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگنا چاہتا ہوں جو لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں