انتہا پسندی کا کسی مذہب،زبان یا علاقے سے کوئی تعلق نہیں: انوار الحق کاکڑ

فوجی قیادت نے یقین دلایا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نےکہا ہے کہ انتہا پسندی کا کسی مذہب،زبان یا علاقے سے کوئی تعلق نہیں، یہ انسانی رویہ ہے جو شیطان کی طرح روپ دھارتا ہے۔ جڑانوالہ کاسانحہ نفرت کے مرض کی نشان دہی کرتاہے۔ اقلیتوں کا تحفظ ہم سب کی ذمے داری ہے۔

انھوں نے کہا کہ فوجی قیادت نے یقین دلایا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔وہ جڑانوالہ کے علاقہ عیسیٰ نگری میں مسیحٰ برادری سے اظہارہمدردی اوراُن میں امدادی چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی ،گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن بعض صوبائی اوروفاقی وزراء کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کے سینیرافسر بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعظم نے کہاکہ مسیحی برادری کا تحفظ امت محمدیہ پرفرض ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کوحلف لیے ہوئے دو دن ہی گزرے تھے اور یہ واقعہ ہوگیا جس پرمیں بہت دکھی ہوں۔ آج متاثرین کے سامنے دل کی باتیں کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ انھوں نے کہاکہ کوئی بھی گروہ حملہ آور ہو گا تو ریاست ایکشن میں آئے گی۔ ریاست اور ریاست کے قوانین مظلوم کے ساتھ ہیں ۔ ایک دوسرے کے احساس سے ہی معاشرہ قائم رہتا ہے۔ کسی کو نہیں پتا آنے والا کل کیا لے کر آئے گا۔ مستقبل میں آنے والا وقت کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

نگران وزیراعظم نے کہاکہ کوئی بھی معاشرہ عدل و انصاف سے ہی قائم رہ سکتا ہے۔انھوں نے نامزدچیف جسٹس کے جڑانوالہ کے دورے پرخوشی کااظہارکیا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بنانے میں مسیحی برادری کا اہم کردار ہے۔ اس وقع پرنگراں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ جلائے گئے گھروں اور گرجا گھروں کی تعمیرومرمت ہفتوں میں نہیں دنوں میں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں