ایمان مزاری اور علی وزیر تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

علی وزیر کے چہرے پر کپڑا ڈال کر کمرہ عدالت پہنچایا گیا، ایمان مزاری عدالت پہنچنے پر والدہ شیریں مزاری سے گلے لگ کر آبدیدہ ہو گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور سابق ایم این اے علی وزیر کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

پیرکو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور علی وزیر کے خلاف بغاوت، دھمکانے اور اشتعال پھیلانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ جج ابوالحسنات کی عدالت میں ایمان مزاری اور علی وزیر کو پیش کیا گیا۔ علی وزیر کے چہرے پر کپڑا ڈال کر کمرہ عدالت پہنچایا گیا۔ پراسیکیوشن نے ایمان مزاری اور علی وزیر کا 10دن کا جسمانی ریمانڈ مانگ لیا۔ ایمان مزاری عدالت پہنچنے پر والدہ شیریں مزاری سے گلے لگ کر آبدیدہ ہو گئیں۔
ایمان مزاری نے کہا کہ میں نے بھوک ہڑتال کر دی ہے، مجھے میری نظموں کی کتابیں نہیں دی گئیں، مجھ سے دوران تفتیش کسی نے کوئی سوال نہیں پوچھے۔

وکیل صفائی نے کہا کہ ایمان مزاری کو ایک دن کا ریمانڈ مل چکا ہے، پولیس کو تاحال کچھ موصول نہیں ہوا، دو دن سے کچھ نہیں ملا، پولیس نے ایمان مزاری سے کوئی تفتیش نہیں کی۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری بھاگ نہیں رہیں، یہیں موجود ہیں، ان کا موبائل اور لیپ ٹاپ پولیس نے لے لیا، ایک ہی نوعیت کے دو مقدمات ان کے خلاف درج ہیں، ایمان مزاری پر الزام ہے ان کے بیانات سے ملک دشمن عناصر کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایمان مزاری کا پولیس کسٹڈی میں رہنا کوئی ضروری نہیں، ان کے ساتھ 900 سے زائد نامزد ملزمان ہیں، ملک میں وکالت کرنا بھی جرم ہے، ایمان مزاری وکیل ہیں۔

اے ٹی سی جج ابوالحسنات نے استفسار کیا کہ ایمان مزاری پر الزام کیا ہے؟ معلوم تو ہو۔ پراسیکیورٹر راجہ نوید نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں جلسہ ہوا، ریاست مخالف نعرے اور تقاریر ہوئیں، ایمان مزاری پر 2022 میں ایسا ہی ریاست مخالف بیانات پر کیس درج ہو چکا ہے۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایمان مزاری سے ثبوت برآمد کرنے ہیں، ان کا فوٹو گریمیٹک ٹیسٹ اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرانا ہے۔ پراسیکیوٹر راجہ نوید نے ایمان مزاری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اے ٹی سی سے ایمان مزاری کا پہلے ریمانڈ کی درخواست کی جا رہی ہے۔

ایمان مزاری اور علی وزیر کے ذریعے شریک ملزمان تک بھی پہنچنا ہے۔ وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ سوال ہے ابھی تک ایمان مزاری کے خلاف کوئی ثبوت کیوں نہیں لایا گیا؟ فوٹو گریمیٹک ٹیسٹ یا وائس میچنگ ٹیسٹ اب تک کیوں نہیں کرایا گیا؟ ان کی تقریر سوشل میڈیا پر ہے، لیپ ٹاپ اور موبائل بھی پولیس کے پاس ہے۔ وکیل نے کہا کہ ایمان مزاری کو حراست میں رکھ کر کیا ملے گا؟ ان کو دہشت گرد ثابت کرنا چاہتے ہیں، پولیس شاید بھول گئی کہ ان کے گھر بھی مائیں بہنیں ہیں۔

ایمان مزاری کی قانونی ٹیم نے ملزمہ سے ملاقات کرنے کے لیے اے ٹی سی سے اجازت مانگتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری گذشتہ روزبے ہوش ہوئیں، تھانے میں ملاقات نہیں کر پائے۔ علی وزیر نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ ہم نے کہا ہم اپنی بات اسلام آباد تک پہنچانا چاہتے ہیں، جلسے میں کوئی غلط بات نہیں ہوئی۔

جناب سپیکر!علی وزیر نے جج کو غلطی سے سپیکر کہہ دیا۔وکیل صفائی نے کہا کہ علی وزیر سابق ممبر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں، اس لئے سپیکر کہہ دیا۔ اے ٹی سی جج ابوالحسنات نے کہا کہ کوئی بات نہیں، میں بھی سن رہا ہوں، آپ سپیکر کہہ سکتے ہیں، ملک ہے تو ہم ہیں، اتنا پیارا ملک ہے ہمارا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پہلے فیصلہ محفوظ کیا اور پھر کچھ دیر بعد میں سنا دیا۔ عدالت نے ایمان مزاری اور علی وزیر کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں