جنوبی وزیرستان میں فائرنگ سے پاک فوج کے چھ جوان شہید: آئی ایس پی آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے شمال مغربی ضلع جنوبی وزیرستان میں فائرنگ کے تبادلے میں چھے پاکستانی فوجی شہید جبکہ اور چار جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ تشدد کا یہ واقعہ جنوبی وزیرستان کے علاقے آسمان منزہ میں پیش آیا ہے۔ یہ افغانستان کی سرحد سے متصل ہے، اور 2018 میں خیبر پختونخوا میں شامل ہونے سے پہلے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کا حصہ تھا۔

اس حملے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔ یہ جنگجو گروپ 2007 کے بعد سے پاکستان میں سب سے زیادہ تباہ کن حملوں کا ذمے دار ہیں۔

فوج کے میڈیا ونگ نے کہا کہ ’’فوجی جوانوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور اس کے نتیجے میں چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا ہے اور دو دہشت گرد زخمی ہوئے ہیں جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں چھے جوانوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے۔

پاک فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اس وقت علاقے کی حفاظت کررہی ہیں تاکہ ممکنہ طور پر وہاں موجود دیگر جنگجوؤں کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

گذشتہ دہائی میں متعدد فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ضلع جنوبی وزیرستان میں جنگجوؤں کی کارروائی میں کمی آئی ہے ، لیکن 2021 میں افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان کی سرحد پر تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گذشتہ سال نومبر میں کالعدم ٹی ٹی پی اور ریاست کے درمیان نازک جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے دہشت گردوں کے حملوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں