پاکستان نے شہری کی ہلاکت پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے سرحد پار گولہ باری سے پاکستانی شہری کی ہلاکت پر "سخت احتجاج" درج کروانے کے لیے منگل کو ہندوستان کے ناظم الامور کو طلب کیا۔

پاکستان کی فوج نے الزام لگایا کہ پیر کو کشمیر کے ہمالیائی علاقے میں بھارتی فوجیوں نے ان کی متنازع سرحد پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک دیہاتی ہلاک ہو گیا۔ بھارت کی جانب سے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

تلخ حریفوں اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی 2021 سے کافی حد تک جاری ہے جب فریقین نے 2003 کے ایک معاہدے پر عمل کرنے پر اتفاق کیا۔ اِسے پہلے نظر انداز کر دیا گیا تھا جس میں دونوں طرف کے شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

خارجہ امور (ایم او ایف اے) نے ایک بیان میں کہا۔ "ہندوستانی ناظم الامور کو آج وزارتِ خارجہ میں طلب کیا گیا تاکہ ضلع کوٹلی کے اولی گاؤں کے 60 سالہ سویلین رہائشی غیاث کی ہلاکت پر پاکستان کا شدید احتجاج درج کرایا جا سکے۔"

بھارتی سفارت کار کو بتایا گیا کہ اس طرح کی جارحیت فریقین کے درمیان 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

امورِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا۔ "اس بات پر زور دیا گیا کہ ہندوستانی افواج کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انسانی وقار اور بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کے منافی ہے۔ ہندوستانی فریق پر زور دیا گیا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کرے اور جنگ بندی مفاہمت کا احترام کرے۔"

پاکستان اور بھارت کا ماضی تلخ ہے اور دونوں ممالک 1947 میں برطانوی نوآبادیات سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ ان میں سے دو جنگیں کشمیر کے متنازعہ ہمالیائی علاقے پر لڑی گئی ہیں جس پر دونوں ممالک مکمل طور پر دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کا کنٹرول صرف جزوی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں