پنجاب میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر، ایک لاکھ افراد محفوظ مقام پر منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے محکمے نے بدھ کو کہا ہے کہ سیلاب زدہ دیہادتوں سے ایک لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

دریائے ستلج میں گذشتہ اتوار سے سیلاب کے باعث پنجاب میں سینکڑوں دیہات زیر آب آ گئے تھے جب کہ ہزاروں ایکٹر پر کھڑی فصلیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے محکمے سیلاب میں پھنسے افراد اور ان کے مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

پنجاب میں ایمرجنسی سروسز کے ترجمان فاروق احمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے ایک لاکھ افراد کو محفوظ مقامت پر منتقل کیا ہے۔‘

پنجاب کے نگران وزیر اعلی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں کے باعث انڈیا نے دریائے ستلج میں اضافی پانی چھوڑا جو کہ سیلاب کا سبب بنا۔

تاہم بھارت کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان میں رواں ہفتے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے دیگر علاقوں میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔

صوبہ پنجاب میں آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے ’پی ڈی ایم اے‘ نے منگل کو کہا تھا کہ ملک کے دونوں بڑے ڈیم ’منگلا اور تربیلا ڈیم 100 فیصد فل چکے ہیں۔‘

پاکستان کے تمام اہم دریاؤں کے بالائی علاقوں میں 22 اگست سے 28 اگست تک بارشوں کا امکان ہے اور متعلقہ اداروں نے سیلابی صورت حال کے پیش نظر انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر رکھا ہے۔

پاکستان کو گذشتہ سال بھی سیلاب کا سامنا تھا جس سے تین کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے۔ گذشتہ سال کے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے تاحال نمٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ سال بھی پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلابی صورت حال سے ملک کا ایک تہائی حصہ متاثر ہوا تھا اور اور 1739 افراد جان سے گئے تھے۔

حکام کے مطابق گذشتہ سال کے سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں