کیبل کار میں خرابی کے بعد مقامی ڈولیوں کے ٹیکنیکل آڈٹ کا فیصلہ

کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے لیے فوج کے ہیلی کاپٹر اور زپ لائننگ کمانڈوز کو آنا پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

خیبرپختونخوا کی صوبائی انتظامیہ نے بدھ کے روز متعلقہ حکام کو مقامی طور پر تیار ہونے والی کیبل کاروں کا معائنہ کرنے کی ہدایت کی ہے جب ان میں سے ایک کار ایک دن پہلے ملک کے شمال مغرب میں ایک کھائی کے اوپر (سے گذرتے ہوئے) خراب ہو گئی تھی۔ اس کیبل کار میں چھے بچے اور دو بالغ افراد سوار تھے جنہیں تقریباً 15 گھنٹے تک پھنسے رہنے کے بعد زندہ بچا لیا گیا۔

پاکستان کے دور دراز علاقوں میں پلوں اور سڑکوں کی عدم موجودگی میں دریاؤں اور وادیوں کو عبور کرنے کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ اور نصب کردہ کیبل کاریں باقاعدگی سے استعمال کی جاتی ہیں۔

منگل کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب بٹگرام میں مقامی بچے کیبل کار میں بالغان کے ساتھ اسکول جانے کے لیے سوار ہوئے۔ وہ آدھے راستے میں تھے کہ ایک کیبل ٹوٹ گئی جس سے کار ایک زاویے پر نازک اور خطرناک طریقے سے سارا دن لٹکتی رہی۔

کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر اور زپ لائننگ کمانڈوز کو آنا پڑا اور یہ میڈیا اور پاکستانی عوام کی توجہ کا مرکز رہا۔

صوبائی چیف سیکرٹری کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، "نگران خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں چیئر لفٹوں کے معائنے کی ہدایت کی ہے اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ان کا معائنہ کرنے کو کہا ہے۔"

بیان میں انتظامیہ کے اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں اور نہروں کے ساتھ تجارتی اور تفریحی مقامات پر تمام کیبل کاروں کو فوری طور پر چیک کریں۔

حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا کہ کیبل کاروں کے طوفان، آسمانی بجلی اور دیگر تباہ کن حالات سے بچنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات موجود ہوں۔

صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق کیبل کار چلانے والے افراد کو متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے نو آبجیکشن (عدم اعتراض) سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔

نگراں حکومت نے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اپنے اضلاع سے رپورٹس تیار کرکے ایک ہفتے میں جمع کروانے کا حکم بھی دیا۔

ان ہدایات سے قبل پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بٹگرام میں جرأت مندانہ ریسکیو آپریشن کو سراہا۔

بدھ کے روز پیغام رسانی پلیٹ فارم ایکس [سابقہ ٹویٹر] پر وزیرِاعظم کاکڑ نے لکھا، "# بٹگرام کے دل میں ہمارے ہیروز چیلنج کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہماری فوج، انتظامیہ اور مقامی چیمپیئنز نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خطرے کو ٹال دیا اور بہادری کا ایک نیا باب رقم کیا۔"

انہوں نے مزید کہا۔ "انہوں نے 8 نوجوان افراد کی جانیں بچائیں جو ایک بار پھر ہمارے اتحاد کی مضبوطی کا ثبوت دیتا ہے۔ ہماری قوم کا جذبہ آج سب سے زیادہ درخشاں ہے۔ ہمیں اپنے ہیروز پر فخر ہے!"

جرأت مندانہ ریسکیو کا آغاز ایک آرمی ہیلی کاپٹر کے ساتھ ہوا جس نے تقریباً 12 گھنٹے بعد ایک بچے کو محفوظ مقام تک پہنچایا لیکن خراب موسم اور رات ہو جانے کی وجہ سے اسے واپس اڈے پر لے جانا پڑا۔

پھر پاکستان کے اسپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) کے کمانڈوز نے کیبل کا استعمال کرتے ہوئے ڈولی کو وادی میں گرنے سے روکنے کے لیے کار کے تار کو ایک زپ لائن کے طور پر استعمال کیا تاکہ پھنسے ہوئے باقی افراد کو بچایا جا سکے۔

فوجی ہیلی کاپٹروں نے کئی چکر لگائے اور ڈولی تک خوراک، پانی اور ادویات پہنچانے کے لیے ایک ایئر مین کو رسی کے ذریعے نیچے لایا گیا۔

صدر عارف علوی نے بھی کامیاب ریسکیو مشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ دیکھ کر "پرجوش" ہیں کہ کیسے پاکستانی فوجی اہلکاروں اور مقامی ریسکیورز کی اجتماعی کوشش سے بچوں کو بچایا گیا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ "مستقبل میں ہمارے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایسی تمام مقامی چیئر لفٹوں کا ایک جامع سروے کیا جائے۔"

پاکستان ماضی میں کیبل کار حادثات کا مشاہدہ کر چکا ہے۔ 2017 میں چیئر لفٹ کی کیبل ٹوٹنے سے دارالحکومت اسلام آباد کے قریب مری کے پہاڑی علاقے میں مسافر کھائی میں گر گئے تھے۔ اس حادثے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں