'ڈر ختم نہیں ہو رہا': جڑانوالہ کے مسیحی گھر لوٹنے سے خوفزدہ ہیں

گذشتہ ہفتے قرآن کی بے حرمتی کے الزام میں مشتعل ہجوم نے جڑانوالہ میں گرجا گھروں اور عیسائیوں کے مکانات کو آگ لگا دی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اٹھارہ سالہ کنول اپنے نوزائیدہ بچے سیموئیل کے ساتھ ہسپتال سے واپس آئی ہی تھیں کہ ضلع فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ کے عیسائی محلے میں واقع ان کے گھر پر خدائی دعویدار ایک ہجوم نے پرتشدد حملہ کر دیا۔

خوفزدہ ہو کر انہوں نے بچے کو (فوراً) گود میں اٹھایا اور اپنے باقی خاندان کے ساتھ ننگے پاؤں بھاگ گئیں۔ یوں وہ اس پرتشدد ہجوم سے بال بال بچ گئیں جس کے حملے میں ان کے پالتو پرندے اور گھر کا تمام سامان جل کر خاک ہو گیا۔

جب کنول جڑانوالہ ٹاؤن کے پر رونق بازار کے قصبے میں عارضی قیام گاہ میں تبدیل کردہ ایک اسکول کے کمرے میں بیٹھی تھیں تو انہوں سموئیل کو جھولا جھلاتے ہوئے کہا۔ "ہم اپنے ہمسایوں سے بہت خوفزدہ ہیں... ہم نہیں چاہتے کہ وہ اسے (بھی) تباہ کر دیں جو تھوڑا بہت ہمارے پاس بچا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہمیں کہیں اور منتقل کر دیا جانا چاہیے۔" ان کے 11 سالہ بھائی اور سات سالہ اور 11 سال بہنیں اسکول واپس جانے سے بہت خوفزدہ ہیں جہاں وہ عیسائی طلباء کی ایک مختصر سی اقلیت میں ہیں۔

ان کی والدہ کرن نے کہا کہ گرما کی تعطیلات کے بعد آج اسکول کا پہلا دن تھا لیکن میں نے خوف کی وجہ سے انہیں نہیں بھیجا۔ میں نے ان سے کہا، 'آپ زندہ رہیں گے تو (ہی) آپ کو تعلیم ملے گی'۔"

فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پاکستان کی مسیحی برادری کے بے گھر ہونے والے ارکان 21 اگست 2023 کو فیصل آباد، پاکستان کے جڑانوالہ ٹاؤن میں سکول میں قائم کردہ ایک عارضی پناہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: رائٹرز)
فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پاکستان کی مسیحی برادری کے بے گھر ہونے والے ارکان 21 اگست 2023 کو فیصل آباد، پاکستان کے جڑانوالہ ٹاؤن میں سکول میں قائم کردہ ایک عارضی پناہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: رائٹرز)

ایک ہجوم کی طرف سے بدھ کو گھنٹوں جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی کے معاملے پر تقریبا 160 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے بارے میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ (لوگ) لوہے کے راڈز، چاقو اور لاٹھیوں سے لیس تھے اور انہوں نے گرجا گھروں اور متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔

پولیس اور رہائشیوں نے بتایا کہ حملہ اس وقت شروع ہوا جب کوئی شخص مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے مبینہ طور پر بے حرمتی شدہ صفحات کو ایک امام مسجد کے پاس لے گیا جس کے بعد سزا کے مطالبے والے اعلانات ہوئے۔

پولیس نے توہین مذہب کے الزام میں دو مسیحی افراد کو گرفتار کر لیا اور ان سے تفتیش جاری ہے۔

پاکستان میں توہینِ مذہب کی سزا موت ہے لیکن کبھی کسی کو پھانسی نہیں دی گئی اگرچہ توہین مذہب کے الزام میں متعدد افراد ماضی میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔

ایک سابق صوبائی گورنر اور اقلیتوں کے وزیر کو توہینِ رسالت کے قانون میں اصلاحات کی کوشش کرنے پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دیہی مرکز میں واقع جڑانوالہ جہاں گندم، چاول اور گنے کی کاشت کی جاتی ہے، وہاں نیم فوجی مسلح اہلکاروں کا ایک بڑا دستہ امن بحال کرنے کے لیے موجود ہے۔

مسیحی برادری پاکستان کی 241 ملین آبادی کا دو فیصد سے بھی کم ہے جن میں سے اکثر غربت کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ان کے لیے صوبائی اور وفاقی حکام نے مالی امداد کا وعدہ کیا ہے تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں۔

 21 اگست 2023 کو پاکستان میں فیصل آباد کے جڑانوالہ ٹاؤن میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پاکستان کی مسیحی برادری کے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے ایک سکول میں قائم کردہ عارضی پناہ گاہ کے باہر پولیس اہلکار پہرا دے رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: رائٹرز)
21 اگست 2023 کو پاکستان میں فیصل آباد کے جڑانوالہ ٹاؤن میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پاکستان کی مسیحی برادری کے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے ایک سکول میں قائم کردہ عارضی پناہ گاہ کے باہر پولیس اہلکار پہرا دے رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: رائٹرز)

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پیر کو علاقے کا دورہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد کا اعلان کیا، حملے کو ظلم قرار دیا، اور پاکستان کی اقلیتی مذہبی برادریوں سے وعدہ کیا کہ حکومت ان کی حفاظت کرے گی۔

لیکن کمیونٹی کے ارکان اور وکلاء کا کہنا ہے کہ صدمے اور خوف کے زخم مندمل ہونا مشکل ہو گا اور ان کی حفاظت یقینی نہیں ہے۔ بہت سے لوگ گھر واپس آنے سے خوفزدہ اور بدستور صدمے کا شکار ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اپنی زندگیوں کو دوبارہ کہاں سے شروع کریں۔

انسانی حقوق کے ایک گروپ 'عوام' کے رکن نسیم انتھونی نے کہا، "ہر کوئی انہیں کھانا دینے، پناہ دینے پر توجہ دے رہا ہے لیکن (اہم) بات یہ ہے کہ وہ کیا محسوس کر رہے ہیں، وہ اندر سے کتنا ٹوٹے ہوئے ہیں، وہ کیسے مانیں گے کہ وہ برابر کے شہری ہیں۔"

سالمن-پنک چرچ کے قریب سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے منعقدہ ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انتھونی نے مزید کہا، "نفسیاتی اذیت کے بارے میں سول سوسائٹی کی طرف سے بہت سنگین تشویش (ظاہر کی گئی) ہے۔" اس چرچ کے اندرونی حصے دھوئیں سے سیاہ ہو گئے ہیں۔

چند گلیوں کے فاصلے پر تقریباً 240 لوگ کنول کے خاندان کے ساتھ اسکول کی عارضی پناہ گاہ میں رہائش پذیر ہیں۔

کلاس روم کی دیواروں پر اب بھی چارٹ لگے ہوئے ہیں جن میں حروف تہجی اور گنتی کا طریقہ لکھا ہوا ہے۔ انہی دیواروں کے درمیان تار اور لکڑی کی چارپائیاں رکھی گئی ہیں۔

یہاں کے کئی لوگوں نے حملے کے بعد ابتدائی چند دن باہر کھیتوں میں اور سڑکوں پر شدید گرمی میں گذارے۔

انہوں نے افسردگی اور اضطراب، کھلی جگہوں کا خوف، سونے میں دشواری، اور بدھ کے واقعات کو یاد کر کے بار بار رونے کے احساسات بیان کیے۔

کمیونٹی لیڈر اکمل بھٹی نے کہا، "جڑانوالہ کی مسیحی کالونی کے زیادہ تر لوگ اضطراب اور اپنے تحفظ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے گھر واپس جانے سے خوفزدہ ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا۔ "یہ سب باتیں خوف کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ بچوں کی اکثریت نفسیاتی مسائل کا شکار ہے... اب بچے بچیاں لوگوں سے ڈرتے ہیں، وہ بازاروں اور پرہجوم جگہوں پر نہیں جانا چاہتے۔"

سخت حفاظت والی پناہ گاہ میں سرکاری عہدیداروں نے کہا کہ لوگوں کو جب تک ضرورت ہو، انہیں وہاں رہنے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں مدد فراہم کرنے کے لیے ڈاکٹروں اور نرسوں کا عملہ رکھا گیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیموں کا اندازہ ہے کہ تشدد سے متاؑثرہ علاقے میں ہزاروں مسیحیوں کے ساتھ سینکڑوں افراد جسمانی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں۔ کچھ قریبی عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں، اور کچھ رشتہ داروں کے ساتھ۔

کنول اور ان کی والدہ کرن کو یقین نہیں ہے کہ یہ خاندان یہاں کب تک رہے گا۔

کرن نے کہا، "اب میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں تحفظ چاہتی ہوں۔ میں اپنے خاندان کے رہنے کے لیے ایک محفوظ جگہ چاہتی ہوں۔ میرے دل اور میرے بچوں کے ذہنوں میں جو خوف جاگزیں ہو گیا ہے وہ دور نہیں ہو رہا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں