نو مئی کے واقعات میں میری پارٹی کے کارکن نہیں کوئی اور ملوث تھا: عمران خان

میں گرفتار ہو گیا تھا، کسی کو فون کرکے اشتعال نہیں دلایا‘ کسی کو نہیں اکسایا سب اپنے طور پر کنٹومنٹ کے علاقے میں گئے: چیئرمین پی ٹی آئی کا جے آئی ٹی کے روبرو بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چیئرمین تحریک انصاف سے جے آئی ٹی نے گذشتہ روز ایک گھنٹہ تفتیش کی، عمران خان کے سوالات پر دیئے گئے جوابات کی تفصیل سامنے آ گئی۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق نو مئی جلاؤ گھیراؤ سے متعلق جے آئی ٹی نے چیئرمین تحریک انصاف سے چھ مقدمات میں طویل تفتیش کی جس کا دورانیہ کم وبیش ایک گھنٹہ رہا۔ جے آئی ٹی ذرائع نے بتایا کہ عمران خان ایک بار پھر نو مئی کے واقعات سے منحرف ہو گئے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عمران کشور سمیت پوری جے آئی ٹی ٹیم نے سوالات کئے۔

عمران خان سے سوال پوچھا گیا کہ نو مئی کے بارے میں آپ کی جانب سے اشتعال دلانے کے شواہد موجود ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ میں گرفتار ہو گیا تھا، کسی کو فون کر کے اشتعال نہیں دلایا۔

سوال کیا گیا کہ ایسی ویڈیوز اور کلپس موجود ہیں جن میں مظاہرین آپ کا نام لیتے نظر آتے ہیں جس پر عمران خان نے کہا کہ کسی کو نہیں اکسایا، سب اپنے طور پر کنٹونمنٹ کے علاقوں میں گئے۔ عمران خان نے کہا کہ جلاؤ گھیراؤ میں میری پارٹی کے کارکن نہیں، کوئی اور افراد تھے۔

جے آئی ٹی نے ایک موقع پر عمران خان کے مطالبے پر کہا کہ وکیل کو عدالت میں بلائیے گا، ہم تفتیش کرنے آئے ہیں۔

اس کے علاوہ سائفر گمشدگی کیس میں بھی عمران خان کو مقدمے میں شاملِ تفتیش کر لیا گیا۔ ایف آئی اے نے جیل میں عمران خان سے سائفر کیس کی تحقیقات کیں اور سائفر گم ہونے سے متعلق سوالات کیے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کی سربراہی میں تین رکنی ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، اس دوران ٹیم نے شاہ محمود قریشی سے دورانِ تفتیش سامنے آنے والے انکشافات پر بھی سوالات کئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں