بغاوت کا مقدمہ: ایمان مزاری اور علی وزیر کی ضمانت منظور

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بغاوت اور اشتعال پھیلانے کے مقدمے میں ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ضمانت منظور کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بغاوت اور اشتعال پھیلانے کے مقدمے میں ایمان مزاری اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت پیر کو منظور کر لی۔

عدالت نے ایمان مزاری اور علی وزیر کی ضمانت 30، 30 ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی۔

پیر کو انسداد دہشتگری عدالت کے جج ابو الحسنات ذولقرنین اس مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے ایمان مزاری کی جلسے میں کی جانے والی تقریر کا سکرپٹ پڑھ کر سنایا اور دلائل دیتے ہوئے ضمانت کی مخالفت کی اور کہا کہ تقریر سے متعلق فرانزک ٹیسٹ ہونا ابھی باقی ہے۔

21 اگست کو بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمے میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے علی وزیر اور ایمان مزاری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے دونوں کو تین روز کے لیے پولیس کے حوالے کیا تھا۔

جس کے بعد سے علی وزیر نے تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

24 اگست کو ہونے والی سماعت میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ بھیج دیا تھا جس کے بعد انہوں نے ضمانت کی درخواستیں دائر کیں۔

اس سے قبل مقامی عدالت نے گذشتہ ہفتے تھانہ ترنول میں درج کارسرکار میں مداخلت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے کیس میں ایمان زینب مزاری کی درخواست ضمانت منظور کی تھی جبکہ عدالت نے علی وزیر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا۔

علی وزیر کو 19 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا جب کہ ایمان مزاری کو 20 اگست کی صبح ان کے گھر سے گرفتار گیا تھا۔

19 اگست کو اسلام آباد کے ترنول پولیس اسٹیشن اور محکمہ انسداد دہشت گردی پولیس اسٹیشن میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔

یہ گرفتاریاں پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسے کے دو دن بعد کی گئی تھیں۔ جلسے سے پی ٹی ایم کے رکن علی وزیر اور ایمان مزاری دونوں نے خطاب کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں