مہنگی بجلی کیخلاف مظاہرے، وزیر اعظم کی 48 گھنٹوں میں ٹھوس اقدامات کی ہدایت

بجلی بلوں میں اضافے کیخلاف تیسرے روز بھی احتجاج، نگران وزیراعظم کاکڑ نے ہنگامی اجلاس بلایا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان میں مہنگی بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ اتوار کو مسلسل تیسرے روز ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ھنگامی اجلاس طلب کیا اور بجلی کے بڑھتے بلوں کے حوالے سے 48 گھنٹے میں ٹھوس اقدامات کرنے کی ہدایت کردی۔ کاکڑ نے اجلاس آج پیر تک ملتوی کر دیا اور اداروں سے پاور سیکٹر میں اصلاحات پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

متعدد شہروں میں مسلسل تیسرے روز بھی لوگ بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف سڑکوں پر نکلے رہے۔ جمعہ کو شروع ہونے والے مظاہروں میں مشتعل شرکا نے بجلی کے بل جلا ڈالے۔

مظاہرے گزشتہ ماہ نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 96 پیسے یونٹ اضافے کے بعد اس وقت شروع ہوئے جب لوگوں کے بجلی کے بل ان کی استطاعت سے باہر ہوگئے ہیں۔

بجلی کی قیمت میں اضافے کا مقصد 3 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے بدلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے عائد کردہ شرط کو پورا کرنا تھا۔ مئی میں ملک میں مہنگائی 38 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ تاہم جولائی میں 28.3 فیصد تک کم ہو گئی۔ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا حکومت ایسے اقدامات کرے گی جس سے قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا اور ساتھ ہی ساتھ صارفین کو سہولت بھی ملے گی۔

انہوں نے کہا متعلقہ وزارتوں اور متعلقہ اداروں کو مفت بجلی حاصل کرنے والے افسران اور اداروں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنی چاہئیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جب عوام کو مشکلات کا سامنا ہے بیوروکریٹس اور وزیر اعظم ٹیکس دہندگان کے خرچے پر مفت بجلی حاصل کرتے رہیں۔

انوار الحق کاکڑ پیر کو صوبائی وزرائے اعلیٰ سے توانائی کی بچت کے اقدامات پر عمل درآمد کے بارے میں تفصیلی مشاورت کریں گے اور جولائی کے لیے بجلی کے بلوں میں اضافے کے معاملے پر بات کریں گے۔

کاکڑ نے تقسیم کار کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ بجلی کی چوری کو روکنے کے لیے ایک روڈ میپ پیش کریں اور توانائی کے شعبے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی منصوبے پیش کرنے کے لیے جلد از جلد پاور سیکٹر میں اصلاحات لائی جائیں۔ وزیر اعظم دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے اجلاس کل تک ملتوی کر دیا اور ٹھوس اقدامات اور منصوبے تیار کرنے اور پیش کرنے کی ہدایت کی۔ یاد رہے گزشتہ 30 روز کے دوران ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں بھی دو مرتبہ اضافہ کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں