پیدل حج کرنے والا پاکستانی حاجی ویزا کےعمل میں'قابلِ ذکرمدد'کے لیے مملکت کا شکر گزار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کندھوں پر ایک چھوٹا سا بیگ، ہاتھ میں چھتری اور پیروں میں ٹریکنگ جوتوں کے ایک جوڑے کے ساتھ پاکستانی طالب علم عثمان ارشد اکتوبر 2022 میں پاکستان کے مشرق میں واقع اپنے آبائی شہر اوکاڑہ سے ایک پرجوش پیدل سفر پر روانہ ہوئے۔ چار ماہ کی مدت اور 5,400 کلومیٹر سفر کے بعد وہ پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے ہوتے ہوئے مارچ 2023 میں سالانہ اسلامی روحانی فریضۂ حج ادا کرنے کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے۔

سعودی عرب نے اس سال پاکستان کا 179,210 عازمین حج کا قبل از وبائی حج کوٹہ بحال کیا اور جنوری میں عمر کی بالائی حد 65 سال کو ختم کر دیا۔ اس سال 160,000 سے زائد پاکستانی عازمین نے حج ادا کیا جو 26 جون کو ہوا۔

سفر کے شوقین اور طالبِ علم 25 سالہ ارشد نے یوٹیوب پر مختلف بلاگز کے ذریعے اوکاڑہ سے مکہ مکرمہ تک اپنے سفر کی دستاویزی شکل دی۔ ارشد نے اتوار کو عرب نیوز کو بتایا، "میں حج کے عمل شروع ہونے سے کافی پہلے ہی عمرہ کے ویزے پر سعودی عرب میں داخل ہو گیا تھا۔"

تاہم جب ان کے تین ماہ کے عمرہ ویزے کی میعاد ختم ہونے کے قریب پہنچی تو ارشد نے کہا کہ انہوں نے حج ویزا مطلوبہ فیس ادا کرکے حاصل کیا اور پاکستانی حج مشن اور سعودی حکام کی مدد سے مملکت میں دوبارہ داخل ہوئے۔

انہوں نے کہا، "میں نے پاکستان میں وہی حج واجبات ادا کیے جو دوسرے پاکستانی عازمین نے ادا کیے تھے جس کی رقم 1.175 ملین روپے ($3,855) تھی اور میں نے پاکستانی حج مشن کے تعاون سے سعودی عرب میں رہتے ہوئے آن لائن حج ویزا حاصل کیا۔"

بلارکاوٹ عمل کے ذریعے مملکت میں دوبارہ داخل ہونے کی اجازت دینے پر ارشد نے سعودی حکومت کو سراہا۔

ارشد نے وضاحت کی، "سعودی حکومت نے اس تمام عمل میں قابلِ ذکر مدد فراہم کی کیونکہ میں نے سعودی بحرین بارڈر کا سفر کیا جہاں سے میں نے اپنے عمرہ ویزا سے خروج کیا اور حج ویزا کے ذریعے مملکت میں دوبارہ داخل ہوا۔ اور سرحد عبور کرنے والے مسافروں کو دوبارہ داخلے کے لیے بحرین کا ویزا حاصل کرنےکی جو حسبِ معمول ضرورت ہوتی ہے، اس کے برعکس مجھے سرحد کے سعودی جانب رہنے کی اجازت دی گئی۔"

انہوں نے کہا کہ عموماً اس عمل میں یہ شرط عائد ہوتی ہے کہ پاکستانی عازمین کے لیے حج کا عمل پاکستان سے ہی کیا جاتا ہے لیکن سعودی حکام نے ان کی جانب سے رسمی کارروائیوں کا انتظام کرکے اور انہیں آن لائن حج ویزا بھیج کر اس "منفرد صورتحال" میں ان کی مدد کی۔

ارشد کا مملکت میں چار ماہ کا قیام روحانی طور پر تازگی بخش رہا جہاں انہیں اسلام کے مقدس ترین مقامات کی زیارت کا موقع ملا جس میں مکہ مکرمہ کے قریب مشہور غارِ حرا بھی شامل ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر تشریف لاتے تھے۔

پاکستانی طالبِ علم نے غارِ ثور، مسجدِ قبلتین جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ آمد کے دو سال بعد تعمیر کی گئی تھی، اور اولین تعمیر کردہ مسجدِ قبا کا بھی دورہ کیا۔ ارشد نے مدینہ منورہ میں کئی مقدس مقامات کا دورہ بھی کیا جو حج اور عمرہ کے موسم میں لاکھوں مسلمانوں کے لیے زیارت کا روایتی مقام ہے۔

انہوں نے سعودی حکومت کے انتظامات کی تعریف کی۔

ارشد نے بتایا، "ہوٹل سمیت مجھے فراہم کردہ رہائش غیر معمولی معیار کی تھی اور دیگر تمام انتظامات بھی برابر شاندار تھے۔"

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی عملہ شدید گرمی کے دوران زائرین پر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کرتا تھا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ سخت موسم میں ٹھنڈے رہیں جبکہ ٹرانسپورٹ اور رہائش بھی اعلیٰ درجے کی تھی۔

ارشد نے کہا کہ "ٹرین اور حکومت کی طرف سے نافذ کردہ دیگر مختلف اقدامات سے عازمینِ حج کو بہت مدد ملی، ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور ان کے سفر کے تجربے کو ہموار کیا۔"

ارشد کو عارضی خیموں میں صرف شدید گرمی اور تیز ہواؤں کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ "کئی کلومیٹر تک بغیر کسی انسانی آبادی کے وسیع علاقے تھے جس سے میں کیمپ لگانے اور راتیں تنہا گزارنے پر مجبور ہوا۔"

تاہم انہوں نے ایک بار بھی روحانی سفر شروع کرنے کے فیصلے پر سوال نہیں اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ الحمدللہ، آسانی اور بہت خوبصورتی کے ساتھ میں نے یہ سفر کامیابی سے مکمل کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں