نیدرلینڈز:انتہاپسند وائلڈرزکو قتل کی دھمکی؛سابق پاکستانی کرکٹر لطیف پر مقدمے کی سماعت

استغاثہ کا جُرم ثابت ہونے کی صورت میں سابق پاکستانی کرکٹر کو 12 سال قید کی سزا دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

نیدرلینڈز میں اسلام مخالف انتہا پسند رکن پارلیمان گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر اکسانے کی کوشش کے الزام میں ایک سابق پاکستانی کرکٹر کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے اور استغاثہ نے جُرم ثابت ہونے کی صورت میں انھیں 12 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

ہالینڈ کے پبلک پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود 37 سالہ خالد لطیف نے 2018 کی ایک آن لائن ویڈیو میں 21 ہزار یورو (23 ہزار ڈالر) کی پیش کش کی تھی۔اس میں انھوں نے وائلڈرز کے قتل پر دوسروں کو اُکسایا تھا اور انھیں جان سے مارنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ہالینڈ کے اس وقت کے رکن پارلیمان نے پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین پرمبنی کارٹونوں کا ایک مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ مقابلہ اس وقت منسوخ کر دیا تھا جب خاص طور پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا،ان کی اس دریدہ دہنی کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان کو ہالینڈ ہی میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

خاتون پراسیکیوٹر ایف اے کوئپرز نے ججوں کو بتایا کہ خالد لطیف نے مسٹر وائلڈرز کو قتل کرنے اور کارٹون مقابلے کا بدلہ لینے کے لیے دوسروں کوتشدد پر اکسانے کی کوشش کی تھی۔

شیفول ہوائی اڈے کے قریب ہائی سکیورٹی کورٹ ہاؤس میں ہونے والی سماعت کے دوران میں انھوں نے کہا:’’نہ صرف ان کا مقصد تشدد کے ذریعے انسانی زندگی کا خاتمہ کرنا تھا، بلکہ اپنی اپیل کے ذریعے انھوں نے ہالینڈ کے ایک نمائندے کو خاموش کرنے کی کوشش کی تھی‘‘۔

کوئپرز نے سابق پاکستانی کرکٹر کو 12 سال قید کی سزا کا مطالبہ کرنے سے قبل مزید کہا کہ کارٹون مقابلے کو روکنے کے لیے قتل کا مطالبہ کرنا اور اس مقابلے کے منتظم کو قتل کرنے کے لیے رقم کی پیش کش کرنا اس امر کا متقاضی ہے کہ اعلان کنندہ کو سخت سزا دی جائے۔

کمرا عدالت میں خالدلطیف یا ان کا کوئی وکیل موجود نہیں تھا۔دا ہیگ میں پاکستانی سفارت خانہ نے مقدمے کی سماعت کے بعد اس پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا اور خالد لطیف سے بھی فوری طور پر تبصرے کے لیے رابطہ نہیں ہوسکا۔

کوئپرز نے بتایا کہ پراسیکیوٹرز 2018 سے کرکٹر سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور قانونی معاونت کے لیے اسلام آباد کو درخواست دے رہے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔انھوں نے کہا کہ نیدرلینڈز کا پاکستان کے ساتھ قانونی معاونت سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لطیف سے متعلق ہمارے سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔سماعت کے دوران میں عدالت میں موجود گیرٹ وائلڈرز نے ججوں کو بتایا کہ متنازع کارٹون مقابلے کے انعقاد کے منصوبے کے بعد ان کی جان کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں۔

اسلام مخالف جارحانہ بیانات کے لیے مشہور وائلڈرز 2004 سے 24 گھنٹے ریاستی تحفظ میں ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’کارٹون مقابلے کے بارے میں آپ کو جو کچھ بھی ملے، اس کے لیے کسی کے سر کی قیمت مقرر کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے‘‘۔

خالد لطیف کو ذاتی طور پر مخاطب کرتے ہوئے وائلڈرز نے کہا:’’مجھے قتل کرنے کا آپ کا مطالبہ مجھے کبھی خاموش نہیں کرائے گا‘‘۔

یادرہے کہ اس مذموم مقابلے کے انعقاد کے منصوبے کو نیدرلینڈز کے اندر ہی بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور سیاست دانوں، مقامی میڈیا اور عام شہریوں نے اس خیال کو غیر ضروری طور پر مسلمانوں کے خلاف قرار دیا تھا۔کوئپرز نے کہا کہ لطیف کی اپیل حقیقی دنیا میں گونج رہی تھی۔

ہالینڈ کی ایک عدالت نے 2019 میں ایک پاکستانی شخص کو وائلڈرز کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔جنید آئی نامی اس شخص کو 2018 میں دا ہیگ کے ایک ٹرین اسٹیشن سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس نے فیس بک پر ایک فلم پوسٹ کی تھی۔اس میں اس نے کہا تھا کہ وہ ’’وائلڈرز کو جہنم واصل کرنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں دوسروں سے مدد کا طلب گار ہے‘‘۔

اس مقدمے میں کرکٹر خالد لطیف کے خلاف فیصلہ 11 ستمبر کو سنایا جائے گا۔واضح رہے کہ انھوں نے پاکستان کی جانب سے پانچ ایک روزہ اور 13 ٹی ٹونٹی میچ کھیلے تھے لیکن 2017 میں دبئی میں پاکستان سُپرلیگ کے ایک میچ میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں ان پر پانچ سال کی پابندی عاید کردی گئی تھی۔

انھوں نے بہ طور کرکٹر ابتدائی طور پر زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن بین الاقوامی سطح پر وہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے تھے، انھوں نے ستمبر 2016 میں ابوظبی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی جانب سے آخری بین الاقوامی میچ کھیلا تھا۔

گذشتہ سال ان پرعاید پانچ سالہ پابندی کی مدت مکمل ہوگئی تھی۔اس کے بعد سے وہ کراچی میں ایک طرح کی گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے ہیں اور کلب کی سطح پر کوچنگ کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں