تحریک طالبان پاکستان نے لکی مروت میں دو پولیس اہلکاروں کو مارنے کی ذمہ داری قبول کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پولیس حکام نے تصدیق کی کہ ملک کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ [کے پی] کے ضلع لکی مروت میں پیر کی شام کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان [ٹی ٹی پی] کے حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

ضلع کو گذشتہ دسمبر میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے کے پی میں سرِفہرست چار "دہشت گردی مراکز" میں شامل کیا تھا۔

خطے کے پولیس ترجمان شاہد مروت نے عرب نیوز کو بتایا کہ پولیس کا ایک دستہ معمول کے گشت پر تھا جب پیزو کے پہاڑی علاقے میں اس پر فائرنگ ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا، "پولیس پارٹی پیزو کے علاقے میں گشت کر رہی تھی جب مسلح افراد نے فائرنگ کر دی جس سے دو ایلیٹ کانسٹیبل ہلاک اور تین زخمی ہو گئے"۔

واقعے کے چند گھنٹے بعد کالعدم ٹی ٹی پی نے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

مروت نے کہا کہ واقعے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لینے کے لیے پولیس کی ایک اور نفری کو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا لیکن مجرم پہلے ہی فرار ہو چکے تھے۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اندر امن کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی قربانیوں کو قوم "ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کا احترام کرے گی۔"

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "ایسے واقعات ہمارے حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتے" اور مزید کہا کہ حکام زخمی پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

2022 میں ٹی ٹی پی کی طرف سے 15 فیصد سے زیادہ حملے غربت کا شکار شمال مغربی ضلع لکی مروت میں کیے گئے جس سے حکام اور رہائشیوں کو یہ شک ہونے لگا کہ خراب ریاستی انفراسٹرکچر اور حکومتی رٹ کی کمی نے اس علاقے کو عسکریت پسندوں کے لیے ایک آسان ہدف بنا کر رکھ دیا ہے۔

ٹی ٹی پی نے پاکستانی حکام سے اس وقت مذاکرات کیے جب سابق وزیر اعظم عمران خان ملک پر حکومت کر رہے تھے۔ تاہم اس کی اعلیٰ قیادت نے یکطرفہ طور پر پاکستان میں حملے دوبارہ شروع کرنے سے پہلے گذشتہ نومبر میں حکومت کے ساتھ نازک سیز فائر کو منسوخ کر دیا تھا۔

کالعدم ٹی ٹی پی نے کے پی اور جنوب مغربی بلوچستان صوبوں کے دیگر حصوں میں بھی حملے تیز کر دیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں