پاکستانی فرم کا سرکاری بینکنگ چینلز کے لیے یواے ای میں ترسیلات زر کانفرنس کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پیر کو ایک مقامی مشاورتی کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی کہ کمپنی نے ستمبر میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ایک آگاہی کانفرنس منعقد کرنے کا اقدام کیا ہے تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے آبائی ملک میں رقم بھیجنے کے دوران بینکنگ چینلز کو استعمال کرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

کراچی میں قائم ایک مالیاتی مشاورتی کمپنی ڈیلسنز ایسوسی ایٹس متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفارتی مشن اور کچھ سرکردہ کمرشل بینکوں کے تعاون سے اس تقریب کا اہتمام کرے گی۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات ملک کے لیے کمائی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اگرچہ حال ہی میں ان میں کافی کمی آئی ہے۔

فرم کے سی ای او طفیل احمد خان نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم پاکستانی تارکینِ وطن کو ان کی محنت سے کمائی گئی رقم کو سرکاری چینلز کے ذریعے بھیجنے کی اہمیت سے آگاہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں حالیہ برسوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔"

خان نے بتایا کہ پاکستان ترسیلاتِ زر سمٹ 28 ستمبر 2023 کو دبئی میں پاکستانی سفارت خانے اور بڑے کمرشل بینکوں کے تعاون سے منعقد ہوگی۔

جنوبی ایشیائی ملک کو گذشتہ مالی سال میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے 14.28 بلین ڈالر موصول ہوئے جو اس سے فوراً پہلے 17.22 بلین ڈالر تھے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس میں 17 فیصد یا 2.94 بلین ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔

ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ملک کی نصف سے زیادہ ترسیلاتِ زر جی سی سی ریاستوں سے حاصل کی گئیں جس میں 6.44 بلین ڈالر کا سب سے بڑا حصہ سعودی عرب کا تھا۔

پاکستان ادارہ برائے ترکِ وطن و بیرونِ ملک ملازمت کے مطابق پاکستان نے 2020 سے جولائی 2023 کے دوران جی سی سی کو 1.7 ملین سے زائد کارکنان برآمد کیے جن میں 10 لاکھ سعودی عرب اور 331,340 متحدہ عرب امارات کو برآمد کیے گئے۔

خان نے کہا کہ ترسیلاتِ زر کی آمد گذشتہ دو سالوں میں خطے کو برآمد کردہ پاکستانیوں کی تعداد کے مطابق نہیں ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "اگر یہ دس لاکھ سے زیادہ پاکستانی بنکنگ چینلز کے ذریعے محض اوسطاً 100 ڈالر ماہانہ بھیجیں جو تقریباً 30,000 روپے بنتے ہیں تو ملک کو ہر ماہ 100 ملین ڈالر اور سالانہ 1.2 بلین ڈالر آسانی سے مل سکتے ہیں۔"

ڈیلسنز ایسوسی ایٹس کے سی ای او نے مزید کہا کہ ہر ماہ 100 ملین ڈالر سے زیادہ رقم بھیجنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے کیونکہ ایک اوسط پاکستانی کارکن ماہانہ 2,000 درہم اور ریال کما رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک کو افرادی قوت کی برآمدات میں اضافے کے پیشِ نظر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں سالانہ 5 بلین ڈالر کا باآسانی اضافہ ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی ترسیلاتِ زر کی آمد کا بڑا حصہ غیر سرکاری ہنڈی اور حوالہ نیٹ ورکس کے ذریعے ہوتا ہے جو نسبتاً زیادہ شرحِ مبادلہ پیش کرتے ہیں اور یوں ترقی کرتے رہتے ہیں۔

سماجی اعتماد کے عنصر کی بنیاد پر حوالہ ترسیلاتِ زر کا ایک متبادل ذریعہ ہے جس کا وجود روایتی بینکاری نظام سے باہر ہے۔ ہنڈی کے نظام میں ایک شخص ایک آرڈر لکھتا ہے جس میں کسی دوسرے کو آرڈر میں نامزد کردہ شخص کو ایک خاص رقم ادا کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ ان طریقوں سے حاصل ہونے والی رقم کو ملک کی سرکاری ترسیلات میں شمار نہیں کیا جاتا ہے۔

خان نے تسلیم کیا کہ غیر سرکاری چینلز مہنگے نرخوں کی پیشکش کر رہے ہیں جو بیرونِ ملک مقیم کارکنوں کے لیے پرکشش ہیں لیکن انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ دبئی میں ہونے والی تقریب سے سرکاری چینلز کی اہمیت اور غیر سرکاری میکانزم سے وابستہ خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں