پاکستان آرمی سینٹر میں سدھائے گئے کتے فوجی اور ریسکیو مشنز کے گمنام ہیرو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ سات دہائیوں کے دوران، پاکستانی فوج کے کینائن سینٹر نے سینکڑوں کتوں کو تربیت دی ہے جنہوں نے نہ صرف مقامی فوجی اور انسداد منشیات کی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے بلکہ دنیا بھر میں سرچ اور ریسکیو مشنز میں بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

یہ مرکز 1952 میں راولپنڈی کے گریژن شہر میں کتوں کی افزائش، پرورش اور تربیت کے لیے قائم کیا گیا تھا تاکہ انہیں مختلف فوجی یونٹوں اور فارمیشنوں میں تعینات کیا جا سکے۔

یہاں اب تک ہزاروں کتوں کو فوجی کارروائیوں، انسداد منشیات کی کوششوں، اور آفات کے بعد بچاؤ کے مشنوں میں حصہ لینے کے لیے تربیت دی گئی ہے۔

آرمی کینائن سینٹر کے کمانڈنٹ کرنل محمد حسن نے عرب نیوز کو بتایا، "اس کینائن سینٹر میں نو کورسز چلائے جا رہے ہیں''

انہوں نے کہا کہ "ہر کورس کے لیے، ہمیں کتے سے مختلف اوصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔"محافظ کتوں کے لیے جارحیت کی ضرورت ہوتی ہے، اور سونگھنے والوں کے لیے، ہمیں چستی اور سونگھنے کی حس کو تیز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔''

انہوں نے کہا کہ ٹریننگ کے لیے تین نسلوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جرمن شیفرڈز، بیلجیئن میلینوس اور لیبراڈور ریٹریورز۔ اور انہیں ان کی مخصوص خصوصیات کے مطابق تربیت دی۔

کمانڈنٹ نے کہا کہ تربیت یافتہ کتے ملک میں تمام فوجی کارروائیوں کا ایک "لازمی حصہ" رہے ہیں، خاص طور پر آئی ای ڈیز اور اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کو سونگھنا اور ٹریکنگ کے فرائض انجام دینا۔

"2012 کے بعد سے جب یہ کتے آپریشنل علاقوں میں [عسکریت پسندوں سے لڑنے کے لیے] تعینات کیے گئے تو آئی ای ڈیز کی تعداد میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے، اور واقعات کی تعداد میں زبردست کمی آئی ہے۔"

ایک واقعے میں خیبر پختونخواہ کے قبائلی ضلع میں تعینات پروٹون نامی چاکلیٹ رنگ کے لیبراڈور کو 2014 میں عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر ہلاک کر دیا تھا۔

پروٹون نے درجنوں کارروائیوں میں 100 سے زائد آئی ای ڈیز اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کرنے میں مدد کی تھی۔

اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ان گمنام ہیروز کے لیے ایک تمغہ تجویز کیا اور اس کے بعد سے اب تک مختلف زمروں میں پروٹون میڈل پانچ کتوں کو دیا جا چکا ہے۔"

اس مرکز میں بیرونی ممالک کے طلباء کو بھی تربیت دی جاتی ہے۔

کمانڈنٹ نے کہا کہ "زیادہ تر وہ عرب ممالک سے آتے ہیں اور ہم انہیں کتوں کو سنبھالنے کے فن اور سائنس کے ساتھ ساتھ کینائن کی تربیت بھی دیتے ہیں۔"

پچھلے سال کے فیفا ورلڈ کپ کے دوران، 40 پاکستانی ڈاگ ہینڈلرز کو سکیورٹی اور تحفظ کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے فوجی دستے کے ساتھ دوحہ بھیجا گیا تھا۔

تربیتی مرکز کے کتوں نے بین الاقوامی خدمات بھی انجام دی ہیں، جن میں نیپال اور ترکی میں زلزلے کے بعد ریسکیو کا کام بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں