پاکستان کا "آئی ٹی سرمایہ کاری" میں سعودی اور مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ کے ساتھ تعاون جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی [آئی ٹی] ڈاکٹر عمر سیف کا کہنا ہے کہ سٹریٹجک بنیادوں پر مختصر مدت میں آئی ٹی کی برآمدات کا حجم 2.6 بلین ڈالر سے تقریباً 10 بلین ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان آئی ٹی کمپنیوں پر زور دیتا ہے کہ وہ بیرون ممالک اپنے آف شور دفاتر کو برقرار رکھنے کے بجائے برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملک میں واپس لائیں تاکہ ترقی کا دائرہ کار آگے سے آگے بڑھایا جا سکے۔

پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سعودی اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر نظر رکھے ہوئے ہے، نگراں وزیر برائے آئی ٹی ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ امید ہے کہ مختصر مدت میں اس شعبے کی برآمدات کا حجم تقریباً 10 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ۔

وفاقی وزیر کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ’ڈیکلیئرنگ پاکستان دی ریجنل آئی سی ٹی ہب‘ کے عنوان سے تین روزہ نمائش سے خطاب کر رہے تھے۔ جہاں انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی آئی ٹی مارکیٹ میں پاکستان کی بے پناہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی آبادی تعلیم یافتہ اور محنتی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

سیف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اس وقت میری اولین ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارے نوجوان بہتر اسکلز حاصل کریں تاکہ وہ ملکی معیشت اور مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ میں ابھرتی ہوئی سرمایہ کاری اور متوقع مواقعوں میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے اپنا کردار ادا کر سکیں۔"

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سعودی اور مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور ہم یہاں سافٹ ویئر پروڈکشن ، ہینڈ سیٹ مینوفیکچرنگ اور ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے بینلس کرنے کے حوالے سے جو کچھ کریں گے، اس سے مقامی معیشت کی ترقی کے ساتھ ساتھ برآمدی صلاحیتیں پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوں گے۔"

ڈاکٹر سیف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ آئی ٹی برآمدات اس کی حقیقی برآمدات کی عکاسی نہیں کرتی ہیں کیونکہ بہت سی کمپنیاں ملک میں سرمایہ نہیں لا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "فی الحال، آئی ٹی انڈسٹری میں تقریباً 150,000 افراد کام کرتے ہیں اور اس کی برآمدات تقریباً 2.6 بلین ڈالر ہیں۔" "میرے خیال میں اصل ایکسپورٹ اس سے زیادہ ہے کیونکہ بہت سی آئی ٹی کمپنیاں جو یہاں کام کر رہی ہیں، وہ اپنا پیسہ پاکستان سے باہر رکھتی ہیں کیونکہ انہیں پاکستان لانے میں مشکل پیش آتی ہے۔"

سیف نے کہا کہ آئی ٹی سے متعلقہ مسائل کو حل کرتے ہوئے، حکومت پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے کہ وہ بیرونی دنیا میں آف شور دفاتر کو برقرار رکھنے کے بجائے برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملک میں واپس لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات کو 3.5 بلین ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

وزیر نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی ٹی انڈسٹری م میں اسٹریٹجک پالیسیز اور آن لائن فری لانسنگ کے ذریعے مختصر مدت میں اپنی برآمدات کو 2.6 بلین ڈالر سے بڑھا کر تقریباً 10 بلین ڈالر تک پہنچا سکتا ہے، اس سلسلے میں نوجوانوں کی ترجیحی بنیادوں پر تربیت کی جائے تاکہ وہ آئی ٹی کے شعبے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، سیف نے کہا کہ پاکستان کی وزارت آئی ٹی ایک پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ شراکتی پروگرام کے ذریعے 100,000 سافٹ ویئر ڈویلپرز کو تربیت دے گی، جس سے برآمدات کو سالانہ 2 بلین ڈالر تک بڑھانے میں مدد ملے گی۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف پروگرامز اور فعال کیمپس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد کی ان صلاحیتوں کو مزید بڑھایا جائے جو عالمی سطح کی آئی ٹی انڈسٹری کو درکار ہیں۔

سیف نے کہا کہ وینچر کیپیٹل کے لیے خطرے سے بچنے کے طریقہ کار کا محفوظ راستہ ملک کے اسٹارٹ اپ کلچر میں سرمایہ کاری کے رجحان کو واپس لا سکتا ہے۔ "وزارت حکومت کی 30 فیصد شراکت کے ساتھ ایک پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔"

ایکسپو میں 400 سے زائد برانڈز بشمول ایک سعودی ملٹی نیشنل یونی فونک نے اپنی مصنوعات کی نمائش کی۔ Unifonic چیٹ مینجمنٹ پلیٹ فارمز اور AI پر مبنی وائس چیٹ بوٹ حل کے پروگرام میں شامل ہے۔

یونیفونک کے سینئر کنٹری ڈائریکٹر خرم راحت نے میڈیا کو بتایا، "ہم نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور ہم پاکستان کو ایک بڑی مارکیٹ کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ یہ 225 ملین آبادی والا ملک ہے، ہمارے نقطہ نظر سے ایک بہت ہی متحرک اور آنے والے "ای کامرس کا واضح منظر نامہ"۔ نمائش کے منتظمین کو توقع ہے کہ تین دنوں کے دوران 35,000 سے زائد زائرین اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں