اسلام آباد ہائی کورٹ کا پرویز الٰہی کو فوری رہا کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم معطل کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا کہا ہے۔

منگل کو چوہدری پرویز الہی کے ایم پی او آرڈر کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے احکامات جاری کیے اور آئندہ سماعت تک پرویز الٰہی کو کسی قسم کا بیان دینے سے منع کیا ہے۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کر لیا ہے۔ جسٹس طارق جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ وکیل درخواست گزار کے مطابق پرویز الٰہی کے خلاف اسلام آباد میں کوئی بھی ایف آئی آر درج نہیں۔

پرویز الٰہی کے وکیل سردار عبدالرازق نے دلائل پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ تین ماہ سے ان کے مؤکل کو مختلف مقدمات میں گرفتار کیا ہوا ہے جبکہ یکم ستمبر کو لاہور ہائیکورٹ نے رہائی کا حکم دیا تھا اور آئندہ گرفتاری سے روکا تھا لیکن اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر لیا۔

سابق وزیر اعلٰی پرویز الٰہی کے وکیل سردار عبدالرازق نے دلائل پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے ان کے موکل کو مختلف مقدمات میں گرفتار کیا ہوا ہے جبکہ یکم ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے رہائی کا حکم دیا تھا اور آئندہ گرفتاری سے روکا تھا لیکن اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر لیا۔

وکیل نے بتایا کہ جن مقدمات میں پرویز الٰہی کو گرفتار کیا گیا انہی میں عدالت نے ڈسچارج کیا۔ اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کا آرڈر جاری کیا تھا۔

دوسری جانب منگل کو ہی لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس مرزا وقاص رؤف نے پرویز الٰہی کو حبس بے جا رکھنے کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے چیف کمشنر اور آئی جی اسلام اباد کو ہدایت دی کہ وہ پرویز الٰہی کو آئندہ روز بدھ کو پیش کریں۔

جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کہا کہ وہ کوئی نیا آڈر نہیں دے رہے بلکہ جو آڈر عدالت کا ہے پہلے اس پر عمل درآمد ضروری ہے۔ سابق وزیر اعلٰی پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم دیتے ساتھ ہی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

خیال رہے کہ پیر کو لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس امجد رفیق نے اٹک کے سیشن جج سپرڈینڈ کو حکم دیا تھا کہ وہ پرویز الہی کو عدالت میں پیش کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں