سعودی عرب دو سے پانچ سال میں پاکستان میں 25 ارب ڈالرتک سرمایہ کاری کرے گا:وزیراعظم

حکومت بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے حقائق پر مبنی غیر روایتی حل کی تلاش میں ہے،عام انتخابات جلد کرانے کے لیے ہرممکن معاونت مہیّا کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سعودی عرب آیندہ دو سے پانچ سال کے دوران میں پاکستان میں مختلف شعبوں میں 25 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کرے گا۔انھوں نے یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے حقائق پر مبنی غیرروایتی حل کی تلاش میں کوشاں ہے۔عام انتخابات آئین کے مطابق جلد کرانے کے لیے ہرممکن معاونت فراہم کریں گے۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہارسوموار کو غیرملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بجلی کے بلوں کے معاملے پرعالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے حقائق پر مبنی فیصلہ کرے گی۔ گردشی قرضہ، بجلی چوری اور لائن گھاٹا بڑے چیلنجز ہیں، حکومت احتجاج کرنے والے لوگوں کے جذبات مجروح کیے بغیر اس مسئلہ کا کم مدتی حل تلاش کرے گی ۔

انھوں نے کہا کہ عام انتخابات کے قانون کے مطابق جلد انعقاد کے لیے سہولت مہیا کرنا عبوری حکومت کا مینڈیٹ ہے، آئین کے مطابق مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عبوری حکومت نے معاشی بحالی میں سہولت کے لیے سرمایہ کاری کے حصول کی پالیسی پر توجہ مرکوز کی ہے۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) معاشی بحالی کی حکمت عملی ہے جس میں زراعت، معدنیات ، دفاعی پیداوار اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب اور مشرق اوسط کے دیگر ممالک سے دو سے پانچ سال میں 25 ، 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آئے گی۔

اپنی حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈا کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ دو یا اس سے زیادہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی فوری نج کاری کی جائے گی، بجلی اور ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے، حکومت وسط مدتی اصلاحات کی بنیاد فراہم کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت معاشی منصوبہ بندی کی تزویراتی راہ متعیّن کرنے کے لیے قابل عمل حکمت عملی تشکیل دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ تمام سیاسی جماعتوں کو بلاامتیاز عام انتخابات میں حصہ لینے کے مساوی مواقع میسر ہوں گے۔تاہم بعض سیاسی جماعتوں کا رویہ تشدد پسندانہ ہے جس سے ملکی قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد حملوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے دوران میں وہاں پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے باقی رہ جانے والے ہتھیار اس وقت علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ غیرملکی فوجیں اپنے مفادات کے حصول کے بعد افغانستان سے چلی گئیں۔اب ہمیں اپنے ملک، بچوں، مساجد اور عبادت گاہوں کا تحفظ کرنا اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ثقافت، مذہب اور سماجی ربط و تعلق پر مبنی ہیں، پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی، حکومت غیرقانونی مہاجرین کے مسئلہ کے حل کے لیے پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاک فوج کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور دونوں بالخصوص معاشی بحالی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سی پیک سے وابستہ منصوبوں کا خیرمقدم کیا اور اب یہ منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

انھوں نے چینی شہریوں کو ہرممکن سکیورٹی مہیا کرنے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔صوبہ بلوچستان میں چاندی اور سونے کے 60 کھرب (6 ٹریلین) ڈالر کے ذخائر کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ جلد شروع ہو گا۔انھوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ پاکستان کو دنیا میں مختلف انداز میں پیش کرنے کے لیے معدنیات کے علاقوں کی تلاش کا ماڈل وضع کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے سماجی عدم توازن پیدا کرنے کی کوشش تھی، موجودہ خطرات سے قانون کے مطابق نمٹنا ضروری ہے اور وہ ایسے رویوں سے قانون کے مطابق نمٹنے کی حمایت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں